آبنائے ہرمز پر قبضے کا اعلان؟ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران پر مزید معاشی دباؤ کی دھمکی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دباؤ مزید بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کرے گا۔ ٹرمپ کے اس بیان نے پہلے سے کشیدہ امریکا ایران تعلقات میں ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔

امریکی صدر نے فاکس نیوز سے گفتگو اور بعد ازاں اپنے خطاب میں ایران کے خلاف معاشی دباؤ مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو جنگ ختم کرنے اور جوہری عزائم سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کے لیے امریکا سخت اقتصادی اقدامات کرے گا۔

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ امریکا جلد اسے اپنی سرزمین کا حصہ قرار دینے کا اعلان کرے گا۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ اس وقت آبی گزرگاہ پر مؤثر کنٹرول رکھتی ہے اور ان کا مقصد ایران پر دباؤ برقرار رکھنا ہے۔

امریکی صدر کے بیان پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی انتہائی اہم عالمی آبی گزرگاہ ہے۔ عالمی توانائی کی سپلائی میں اس راستے کا مرکزی کردار ہے اور حالیہ کشیدگی کے باعث یہاں سے گزرنے والی تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہ

رپورٹس کے مطابق جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 سے 140 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، تاہم حالیہ دنوں میں اس تعداد میں شدید کمی آئی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اس صورتحال کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ادھر امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں کا خاتمہ اور جنگ کے بعد کے انتظامات اہم معاملات میں شامل ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق واشنگٹن ایران کے خلاف ایسے سخت اقتصادی اقدامات اور پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے جو اس سے پہلے نہیں دیکھی گئیں۔ ان اقدامات کا مقصد ایرانی معیشت کو مزید دباؤ میں لانا اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانا قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے امریکی عوام کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اس معاشی قیمت کو قابلِ قبول قرار دیا ہے۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کے دو آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد خطے میں بحری سلامتی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں آمدورفت طویل عرصے تک متاثر رہی تو اس کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تیل منڈی، شپنگ، انشورنس، توانائی کی قیمتوں اور درآمدی ممالک کی معیشتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ وابستہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی طویل بندش یا عسکری تصادم سے عالمی توانائی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہوسکتا ہے۔

ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے اعلان نے اس بحران کو محض فوجی یا معاشی تنازع سے آگے بڑھا کر علاقائی خودمختاری اور عالمی بحری قوانین سے متعلق سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز پر امریکی دباؤ کو مسترد کرتا آیا ہے، جبکہ واشنگٹن اسے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک محاذ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

اب سب کی نظریں امریکا کے اگلے اقدام، ایران کے ممکنہ ردعمل اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں۔ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید خراب ہوئی تو عالمی سطح پر توانائی اور سلامتی کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

Related posts

آبنائے ہرمز پر قبضے کا اعلان؟ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران پر مزید معاشی دباؤ کی دھمکی

مصر مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کرنے لگا، حتمی فیصلہ آئینی و قانونی جائزے سے مشروط

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان  اہم ملاقات