لاہور: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں بھارتی اور افغان میڈیا پر جا کر پاکستان کو بدنام کر رہی ہیں۔ انہوں نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کو “چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے”۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے وزیراعظم شہباز شریف پر جھوٹے الزامات لگائے اور مختلف فورمز پر ان کو دہراتے رہے۔ ان کے مطابق عمران خان کے سیاسی و معاشی فیصلوں کے پیچھے ’’روحانیت کا لبادہ اوڑھے‘‘ ان کی اہلیہ کارفرما تھیں، جبکہ عالمی جریدے بھی اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ ان کے بیانیے کے پیچھے جھوٹ اور پروپیگنڈے کا ایک پورا نظام موجود تھا۔
عمران خان کی بہنوں کے خلاف الزامات
وفاقی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی تینوں بہنیں 9 مئی کے واقعات کے دوران کور کمانڈر ہاؤس میں موجود تھیں اور جتھوں کی قیادت کر رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنیں بھارتی اور افغان میڈیا کو انٹرویوز دے کر ملک کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں جبکہ انہوں نے کبھی کشمیر، مودی کے مظالم یا پاکستان کے مؤقف کی حمایت میں بات نہیں کی۔
دہشتگردی، سیکیورٹی اور خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید
عطا تارڑ نے وانا کیڈٹ کالج واقعے پر پاک فوج کی کامیاب کارروائی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت آپریشن نہ کیا جاتا تو یہ سانحہ اے پی ایس سے بھی بڑا ہو سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ:
• پاکستان ہمیشہ سے امن کا داعی ہے اور ہر دہشتگرد کا پیچھا کیا جائے گا۔
• پی ٹی آئی کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے چل رہے ہیں۔
• کے پی حکومت نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، ڈرگ اسمگلنگ اور غیر قانونی کان کنی کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
• ’’تمباکو مافیا‘‘ ٹیکس دینا شروع کر دے تو 500 ارب روپے اکٹھے ہوسکتے ہیں۔
9 مئی کا منصوبہ فوج کو کمزور کرنے کیلئے تھا: عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے حملے ملک دشمن منصوبے کا حصہ تھے جس کا مقصد فوج کو اندرونی طور پر کمزور کرنا تھا، مگر پاک فوج نے ہر محاذ پر کامیابی حاصل کی اور معرکہ حق میں سرخرو ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ مشرقی و مغربی سرحدیں کمزور ہوں، مگر قوم اور اداروں نے ان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔
عطا تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان آئین و قانون کے تحت چل رہا ہے اور چند افراد کی پسند نا پسند سے ریاستی فیصلے نہیں ہوں گے.