دی ہیگ ثالثی عدالت میں پاکستان کی اہم کامیابی، بھارت کے آبی منصوبوں پر مؤقف تسلیم

Permanent Court of Arbitration میں قائم ثالثی ٹریبونل نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ایک اہم مقدمے میں پاکستان کے مؤقف کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ یہ مقدمہ بھارت کے رتلے اور کشن گنگا پن بجلی منصوبوں میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے تعین کے طریقہ کار سے متعلق تھا۔

ذرائع کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ بھارت یکطرفہ انداز میں ایسے حسابی طریقے اختیار نہیں کر سکتا جن کے نتیجے میں معاہدے میں مقرر حد سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ پاکستان نے عدالت کے سامنے مؤقف اپنایا تھا کہ بھارت کا مجوزہ طریقہ کار سندھ طاس معاہدے کی روح اور طے شدہ حدود کے خلاف ہے۔

وزارتِ آبی وسائل کے حکام کے مطابق ٹریبونل نے پاکستان کے اعتراضات کو درست قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی ہائیڈرو پاور منصوبے کے ڈیزائن اور ذخیرہ صلاحیت کے تعین میں شفافیت اور معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل ضروری ہے۔

یہ فیصلہ 15 مئی کو رتلے اور کشن گنگا منصوبوں سے متعلق کیس میں جاری کیا گیا، تاہم حساس نوعیت کے باعث اس کی مکمل تفصیلات ابھی عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ اسلام آباد میں اس فیصلے کو پاکستان کی سفارتی، قانونی اور تکنیکی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ عدالتی رائے سے یہ مؤقف مزید مضبوط ہوا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کی پانی کنٹرول صلاحیت پر واضح قانونی حدود موجود ہیں، جبکہ بھارت عدالت کو یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اضافی ذخیرہ معاہدے کے مطابق ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ معاہدے کے جائزے اور نگرانی کے عمل کے دوران بھارت پاکستان کو تمام ضروری تکنیکی معلومات فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔ پاکستان نے اس پیش رفت کو آبی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے عالمی ثالثی عمل کے تسلسل کا خیرمقدم کیا ہے۔

Related posts

منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار خاتون انمول عرف پنکی سے متعلق اہم انکشافات سامنے

قطر سے ایل این جی کے مزید کارگو پاکستان پہنچ گئے، توانائی بحران ٹالنے کی کوششیں تیز

آٓئی ایم ایف کی نئی شرائط، مہنگائی کا نیا طوفان؟ پاکستان پر مزید 11 مطالبات عائد