اسلام آباد: وفاقی حکومت نے قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اہم اجلاس اچانک ملتوی کر دیا ہے، جس کے باعث آئندہ مالی سال 2026-27 کے ترقیاتی منصوبوں اور قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری کا عمل بھی مؤخر ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزراء اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کرنا تھی۔ اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال کے قومی ترقیاتی پروگرام، وفاقی و صوبائی ترقیاتی ترجیحات اور سالانہ ترقیاتی منصوبے (PSDP) کا جائزہ لیا جانا تھا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے التوا کی بنیادی وجہ بعض سیاسی اور انتظامی امور پر مشاورت کا جاری رہنا ہے۔ خاص طور پر حکومت اور اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بعض معاملات پر مکمل اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث اجلاس کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس کے آج کے سرکاری شیڈول سے بھی خارج کر دیا گیا تھا، جس سے اجلاس ملتوی ہونے کی اطلاعات کو تقویت ملی۔ اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اہم اجلاس منگل کے روز طلب کیا جا سکتا ہے، جہاں ترقیاتی بجٹ اور دیگر معاشی اہداف کی منظوری دی جائے گی۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بجٹ سازی کے عمل میں انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ اسی فورم پر وفاق اور صوبوں کی ترقیاتی ترجیحات کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔ اجلاس میں منظور ہونے والی سفارشات کی روشنی میں سالانہ ترقیاتی پروگرام اور مختلف شعبوں کے لیے فنڈز کی تقسیم کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاری اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور توقع ہے کہ حکومت 10 جون کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرے گی۔ بجٹ میں محصولات کے اہداف، ترقیاتی اخراجات، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور مختلف شعبوں کے لیے مالی مراعات سے متعلق اہم اعلانات متوقع ہیں۔
سیاسی اور معاشی حلقے قومی اقتصادی کونسل کے آئندہ اجلاس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس میں ہونے والے فیصلے نہ صرف ترقیاتی منصوبوں بلکہ مجموعی معاشی حکمت عملی اور بجٹ کے خدوخال پر بھی براہ راست اثرانداز ہوں گے۔