لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت محکمہ زراعت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کسان کارڈ، زرعی میکانائزیشن، کھاد کی دستیابی، جدید آبپاشی، تھل اور پوٹھوہار ٹرانسفارمیشن منصوبوں سمیت زرعی شعبے میں جاری اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت صوبے میں زرعی انقلاب برپا کرنے کے لیے ریکارڈ اقدامات کر رہی ہے اور 31 اگست 2026 تک 10 لاکھ کسان کارڈز کی فراہمی کا تاریخی ہدف مکمل کر لیا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک 9 لاکھ کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 50 ہزار کاشتکاروں کو پروگرام میں شامل کیا گیا ہے، جس کے بعد حکومت ایک ماہ کے اندر 10 لاکھ کسان کارڈز کی فراہمی کا ہدف حاصل کر لے گی۔ کسان کارڈ کے ذریعے اب تک کاشتکاروں کو 360 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جن کی ریکوری کی شرح 99 فیصد رہی۔ بریفنگ کے مطابق جاری کردہ قرضوں کا 80 فیصد حصہ کسانوں نے کھاد کی خریداری پر خرچ کیا جبکہ خریف سیزن کے لیے 116 ارب روپے کے قرضے منظور کیے گئے، جن میں سے 62 ارب روپے استعمال ہو چکے ہیں اور ان میں 75 فیصد رقم صرف کھاد کی خریداری پر خرچ کی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ بین الاقوامی آڈٹ فرم KPMG کسان کارڈ پروگرام کے اثرات پر اپنی رپورٹ 30 ستمبر 2026 تک پیش کرے گی، جس کے بعد وزیراعلیٰ کسان کارڈ پروگرام کو عالمی سطح پر متعارف کرایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کسان کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار تین برس کے دوران 50 ہزار گرین ٹریکٹرز فراہم کیے جائیں گے جبکہ ماضی میں کسی حکومت نے کسانوں کو اتنی بڑی تعداد میں ٹریکٹرز نہیں دیے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں تین مراحل کے دوران 34 ہزار گرین ٹریکٹرز تقسیم کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 24 ہزار ٹریکٹرز پہلے ہی کسانوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ فی ٹریکٹر 10 لاکھ روپے کی ریکارڈ سبسڈی دی جا رہی ہے۔ 41 فیصد ایسے کاشتکار ہیں جنہیں زندگی میں پہلی مرتبہ ٹریکٹر ملا، جبکہ 20 فیصد کسانوں نے ٹریکٹر کے ساتھ جدید زرعی آلات بھی خریدے۔ مزید یہ کہ 32 فیصد کسان دیگر کاشتکاروں کو سروس پرووائیڈر کے طور پر زرعی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گرین ٹریکٹر اسکیم میں تقسیم کے تمام مراحل کو مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کیا گیا ہے اور انسانی مداخلت ختم کر دی گئی ہے۔ حکومت نے فیلڈ میں جا کر 12 ہزار 650 ٹریکٹرز کی جسمانی تصدیق بھی مکمل کر لی ہے، جس میں 99.7 فیصد ٹریکٹرز موقع پر موجود پائے گئے جبکہ 35 ٹریکٹرز موجود نہ ہونے پر متعلقہ الاٹیز کو نوٹس جاری کیے گئے۔
زرعی ترقی کے لیے حکومت نے 3 ہزار ایگری گریجویٹس کو انٹرن شپ پروگرام میں شامل کیا، جنہوں نے 12 ملین ایکڑ اراضی پر کاشتکاروں کو جدید زرعی مشاورتی خدمات فراہم کیں۔ پروگرام مکمل کرنے والے 30 فیصد گریجویٹس مستقل ملازمت حاصل کر چکے ہیں جبکہ مجموعی جاب پلیسمنٹ کی شرح 50 فیصد رہی۔ آئندہ مرحلے میں مزید 1500 ایگری گریجویٹس کو پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔
اجلاس میں صوبے بھر میں 10 جدید ماڈل ایگری مالز کے قیام کی منظوری دی گئی جبکہ ان کا ڈیزائن بھی پیش کیا گیا۔ زرعی میکانائزیشن پروگرام کے تحت اب تک 280 جدید زرعی مشینیں فراہم کی جا چکی ہیں اور جون 2027 تک یہ تعداد بڑھا کر 2000 کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بریفنگ کے مطابق پانی کے بہتر استعمال کے لیے نہری کھالوں کی پختگی، 1000 لیزر لینڈ لیولرز کی فراہمی، ہائی ایفیشینسی اریگیشن سسٹم، 1200 واٹر کورسز کی تعمیر اور سینٹرل پنجاب میں زیر زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے کے لیے 1000 ریچارجنگ ویلز پر کام جاری ہے۔
پوٹھوہار ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت 4000 ایکڑ میں سے 2400 ایکڑ اراضی کاشت کے لیے تیار کر لی گئی ہے جبکہ بارانی علاقوں میں 1000 واٹر اسٹوریج پونڈز قائم کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے تھل ٹرانسفارمیشن پروگرام کی بھی منظوری دی، جس کے تحت 11 ہزار ایکڑ پر ہائی ایفیشینسی اریگیشن سسٹم نصب کیا جائے گا، ایک ہزار تالاب اور آبپاشی اسکیمیں متعارف کرائی جائیں گی، دالوں کی کاشت کے فروغ کے لیے 3000 جدید مشینیں فراہم کی جائیں گی اور تھل کے پسماندہ علاقوں میں 10 ہزار ایکڑ پر مالٹے کے باغات لگائے جائیں گے۔
سموگ کے خاتمے اور فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کے لیے اب تک 5 ہزار سپر سیڈر کسانوں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں جبکہ رواں سال مزید 7 ہزار سپر سیڈر فراہم کیے جائیں گے۔ اکتوبر 2026 تک مجموعی تعداد 12 ہزار تک پہنچ جائے گی، جس کے ذریعے 3.5 ملین ایکڑ رقبے پر گندم کی کاشت ممکن ہوگی۔
اجلاس میں کھاد کی رسد، طلب اور قیمتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان یوریا کھاد کی پیداوار میں خودکفیل ہے اور پنجاب میں گزشتہ سوا دو برس سے یوریا کی قیمت 4400 سے 4500 روپے فی بوری کے درمیان برقرار رکھی گئی ہے، جس سے کسانوں کو کھاد مافیا سے تحفظ ملا ہے۔