دو غیر ملکی خواتین سے مبینہ اجتماعی زیادتی کیس، دوسری متاثرہ خاتون کا بیان سامنے آگیا

لاہور: دو غیر ملکی خواتین کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں دوسری متاثرہ خاتون کا بیان بھی سامنے آ گیا ہے، جس میں اس نے پاکستان آمد، مبینہ اغوا، دھمکیوں اور فرار تک کے واقعات کی تفصیل بیان کی ہے۔

چوائس نیوز کو موصول ہونے والے بیان کی کاپی کے مطابق متاثرہ خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی ملزم رضا ڈار سے سنگاپور میں ہونے والے ایک کرپٹو کرنسی ایونٹ کے دوران ملاقات ہوئی تھی۔ بعد ازاں وہ لاہور پہنچی تو رضا ڈار اسے ایک گھر لے گیا، جہاں پہلے سے کئی افراد موجود تھے۔

متاثرہ خاتون کے مطابق گھر میں موجود افراد اسے شیشے (کانچ) کے ٹکڑے دکھا کر نقصان پہنچانے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ملزم نے اس کا موبائل فون استعمال کرتے ہوئے اس کے تمام رابطوں (کانٹیکٹس) کو رقم کی فراہمی کے لیے پیغامات بھیجے، تاہم کسی کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

بیان کے مطابق آخری روز رضا ڈار نے کہا کہ مطلوبہ رقم حاصل ہو چکی ہے اور اب وہ آزاد ہیں۔ خاتون کے مطابق اس کے بعد انہیں گاڑی میں بٹھایا گیا، پاسپورٹ واپس کیے گئے اور بتایا گیا کہ انہیں ایئرپورٹ لے جایا جا رہا ہے۔

متاثرہ خاتون نے بیان میں کہا کہ سفر کے دوران رضا ڈار مسلسل کسی شخص سے فون پر رابطے میں تھا اور دوسری جانب سے اسے یہ کہتے سنا گیا کہ “باس کی ہدایات تو کچھ اور ہیں۔”

خاتون کے مطابق اسی دوران گاڑی کو حادثہ پیش آیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے اور اس کی ساتھی اسٹیفنی نے گاڑی سے چھلانگ لگا دی اور جان بچانے کے لیے بھاگ نکلیں۔ دونوں نے قریبی مکینک کی دکان میں پناہ لی اور مدد کے لیے چیخ و پکار کی، جس پر وہاں موجود افراد نے ٹریفک پولیس کو اطلاع دی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں نے انہیں اپنی گاڑی میں بٹھایا اور کہا کہ انہیں ایئرپورٹ لے جایا جائے گا، تاہم راستے میں گاڑی روک کر بتایا گیا کہ وہ خراب ہو گئی ہے۔ متاثرہ خاتون کے مطابق وہ اور اس کی ساتھی وہاں سے بھی نکل کر بھاگ گئیں۔

خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ کچھ دیر بعد ایک اور پولیس گاڑی موقع پر پہنچی، جس میں ایک خاتون پولیس اہلکار بھی موجود تھیں۔ اس کے بقول “اصل پولیس کے آنے کے بعد ہمیں پہلی بار خود کو محفوظ محسوس ہوا۔”

پولیس کی جانب سے مقدمے کی تفتیش جاری ہے، جبکہ متاثرہ خاتون کے بیان کو بھی کیس کا حصہ بنا کر مختلف الزامات اور واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ملزمان پر عائد الزامات کا فیصلہ عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

Related posts

لاہور کے تمام نجی اسکولوں کے لیے بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار، ضلعی تعلیمی اتھارٹی کا حکم

چلڈرن اسپتال لاہور میں شہری کی مبینہ خودکشی کی کوشش

پنجاب ملک کا پہلا صوبہ بن گیا