صوبے کے تمام سرکاری اثاثوں، اراضی اور وسائل کی مؤثر نگرانی، شفاف انتظام اور ریونیو میں اضافے کے لیے پنجاب ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی قائم

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے تمام سرکاری اثاثوں، اراضی اور وسائل کی مؤثر نگرانی، شفاف انتظام اور ریونیو میں اضافے کے لیے پنجاب ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی (Asset Management Authority of Punjab – AMAP) قائم کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں پنجاب ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام، اس کے قانونی فریم ورک، گورننس اسٹرکچر اور آپریشنل طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں اتھارٹی کے مکمل پراسیس فلو، بورڈ کی تشکیل، مالیاتی نظام اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی صوبائی اثاثوں کی شناخت، ریکارڈ، منتقلی، مینجمنٹ، تشخیص، مارکیٹنگ، لیز، فروخت اور سرمایہ کاری سے متعلق تمام امور کی ذمہ دار ہوگی۔ سرکاری اراضی کے کنٹرول سے لے کر اس کی لیز یا فروخت تک کے تمام معاملات ایک ہی خودمختار ادارے کے سپرد ہوں گے تاکہ اثاثوں کا مؤثر استعمال اور ریونیو میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اتھارٹی سرکاری اثاثوں کا جامع ڈیٹا بیس تیار کرے گی، ان کی باقاعدہ مارکیٹ ویلیو ایشن کرائے گی اور سرمایہ کاری، نجکاری، لیز، رینٹل، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) اور جوائنٹ وینچر (JV) جیسے ماڈلز کے ذریعے صوبائی اثاثوں سے زیادہ سے زیادہ مالی فوائد حاصل کیے جائیں گے۔

بریفنگ کے مطابق منصوبوں کے لیے موزوں سائٹس کا انتخاب، ماسٹر پلانز اور ڈویلپمنٹ پلانز کی تیاری، فزیبلٹی رپورٹس، کنٹریکٹ مینجمنٹ، منصوبوں پر عملدرآمد اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کی ذمہ داری بھی اتھارٹی کے سپرد ہوگی۔ اتھارٹی منصوبوں کی مارکیٹنگ، تشہیر، ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی تیاری اور منظوری بھی خود دے سکے گی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے لیے 11 رکنی بااختیار بورڈ تشکیل دیا جائے گا، جس کی سربراہی چیف سیکرٹری پنجاب کریں گے، جبکہ گریڈ 20 کے مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کو ادارے کا انتظامی سربراہ مقرر کیا جائے گا۔ بورڈ میں اوپن میرٹ کے ذریعے نجی شعبے سے ہیومن ریسورس سمیت دیگر ماہرین کو بھی شامل کیا جائے گا اور جدید مہارتوں سے آراستہ پیشہ ور افرادی قوت تعینات کی جائے گی۔

بریفنگ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ ماضی میں صوبائی اثاثے مختلف محکموں میں بکھرے ہوئے تھے اور ان کا کوئی مرکزی ریکارڈ موجود نہیں تھا، جس کے باعث اثاثوں کی مناسب ویلیو ایشن نہ ہونے، اراضی کے غیر مؤثر استعمال، غیر قانونی قبضوں اور مہنگی قانونی چارہ جوئی کی صورت میں صوبے کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔

مالیاتی امور میں شفافیت کے لیے “AMAP فنڈ” قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ بریفنگ کے مطابق اتھارٹی کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں سے حاصل ہونے والی نیٹ آمدن کا 98 فیصد حصہ براہِ راست صوبائی خزانے میں جمع ہوگا، جبکہ صرف 2 فیصد رقم اتھارٹی کے آپریشنل اخراجات اور ملازمین کی تنخواہوں کے لیے استعمال کی جا سکے گی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اثاثوں کی منتقلی، تشخیص اور مینجمنٹ سے متعلق تمام اہم فیصلے صوبائی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہوں گے، جبکہ پنجاب ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام کے لیے قانون فوری طور پر متعارف کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جس کی حتمی منظوری کابینہ کمیٹی دے گی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ مؤثر ریسورس مینجمنٹ کے لیے ضروری ہے کہ پنجاب حکومت کو اپنے تمام اثاثوں کا مکمل علم ہو۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اثاثوں کی دیکھ بھال، انتظام اور بہتر استعمال کے لیے ایک ہی خودمختار ادارے کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام کے تصور کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو جلد از جلد قانونی اور انتظامی اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

Related posts

قصور میں پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس اسٹیشن کا افتتاح، منشیات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کا آغاز

دو خواتین کے مبینہ اغوا اور تاوان کیس پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز میں تفصیلی پریس کانفرنس

ایران اور امریکا کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کا اگلا دور 11 جولائی سے شروع ہونے کا امکان