ایک لیٹر پیٹرول پر 124.73 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 112.65 روپے لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں
اسلام آباد: پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں شامل پٹرولیم لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق صارفین سے فی لیٹر ایندھن پر بنیادی قیمت کے علاوہ بھاری مالی بوجھ وصول کیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق 18 جولائی 2026 سے نافذ ہونے والی قیمتوں کے تحت ایک لیٹر پیٹرول کی بنیادی لاگت 191 روپے 42 پیسے ہے، تاہم حکومت نے اس کی فروختی قیمت 315 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کی ہے۔ اس طرح پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 124 روپے 73 پیسے پٹرولیم لیوی، مختلف ٹیکسز اور مارجنز کی مد میں شامل کیے گئے ہیں۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول پر 80 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 18 روپے 16 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 6 روپے 95 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 241 روپے 70 پیسے فی لیٹر ہے، جبکہ اس کی سرکاری قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 112 روپے 65 پیسے پٹرولیم لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز شامل ہیں، جو صارفین سے وصول کیے جا رہے ہیں۔
دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ریٹیل قیمت کا ایک بڑا حصہ بنیادی درآمدی یا پیداواری لاگت کے بجائے حکومتی لیویز، ٹیکسوں اور سپلائی چین سے متعلق مارجنز پر مشتمل ہے، جس کے باعث صارفین کو ایندھن کے لیے نمایاں اضافی رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔