سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ملکی تاریخ اور خطے کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیشرفت قرار

اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ملکی تاریخ اور خطے کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیشرفت قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک تاریخی پیش رفت ہے، جس سے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ معاہدے کے نتیجے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور تینوں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے اپنے دفاع کو مزید مؤثر بنا سکیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ ان کے مطابق تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا فروغ خطے میں استحکام اور سلامتی کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے معاہدے کو ممکن بنانے میں کردار ادا کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو بھی سراہا اور ان کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مکہ میں ہونے والا یہ دفاعی معاہدہ صرف تینوں ممالک کے باہمی دفاع تک محدود نہیں بلکہ خطے اور عالمی امن کے لیے بھی ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون مستقبل میں مزید وسیع ہوگا اور تینوں ممالک مشترکہ طور پر خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

بلاول بھٹو کے مطابق موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں دوست اور برادر ممالک کے درمیان دفاعی روابط کا مضبوط ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسی سمت میں ایک نمایاں قدم ہے۔

یوں مکہ معاہدے کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان پہلے سے موجود برادرانہ اور تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Related posts

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے استحکام کی جانب اہم قدم، شہباز شریف

پیپلز پارٹی وفاق میں اسی تنخواہ پر کام کرے گی: رانا ثنا اللہ

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق اس وقت کوئی تجویز حکومت کے ایجنڈے پر موجود نہیں, رانا ثناء اللہ