پیپلز پارٹی وفاق میں اسی تنخواہ پر کام کرے گی: رانا ثنا اللہ

دھیرکوٹ: مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی جہاں سے ہار جاتی ہے وہاں دھاندلی کا الزام عائد کردیتی ہے، وفاق میں بھی پیپلز پارٹی ’’اسی تنخواہ‘‘ پر کام کرے گی۔

حویلی میں انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور مسلم لیگ (ن) عوامی مینڈیٹ کے مطابق حکومت سازی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت قائم ہونے کے بعد عوامی مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہوگا، تمام اہم مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ انتخابات میں شکست کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کوئی نئی بات نہیں، پیپلز پارٹی جہاں سے ہار جاتی ہے وہاں دھاندلی کا الزام لگا دیتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے ایکشن کمیٹی کے بعض ارکان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ کمیٹی کے کچھ لوگ کسی کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے، اب سیاسی جماعتوں کو عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے اور خطے کے مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے بعد عوامی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرے گی اور خطے میں ترقیاتی کاموں، بنیادی سہولیات اور عوامی مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

پیپلز پارٹی سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ’’پیپلز پارٹی وفاق میں اسی تنخواہ پر کام کرے گی‘‘، تاہم انہوں نے وفاقی سطح پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری سیاسی تعاون کے حوالے سے مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔

لیگی رہنما نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام اور حکومتی نظام کو بہتر انداز میں چلانا ضروری ہے، تاکہ عوام کے مسائل حل کیے جاسکیں اور خطے میں ترقی کا عمل تیز ہو۔

Related posts

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے استحکام کی جانب اہم قدم، شہباز شریف

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق اس وقت کوئی تجویز حکومت کے ایجنڈے پر موجود نہیں, رانا ثناء اللہ

رانا ثنا اللہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام سے متعلق بیان پر ردعمل