صوبوں کو توڑنے کے بجائے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، ریاست ماں ہے تو اولاد کو جوڑتی ہے: مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ریاست اگر ماں کا درجہ رکھتی ہے تو ماں اپنی اولاد کو جوڑتی ہے، تقسیم نہیں کرتی، اس لیے صوبوں کو توڑنے کے بجائے ان کے آئینی اور مالی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
اسلام آباد میں سیرت رحمۃ للعالمین ﷺ و پیغام جمعیت کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات کا مقصد انسانیت کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پیغام کو تازہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی یا ناکامی ہمارے اختیار میں نہیں، تاہم محنت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ظلم و جبر کے مقابلے میں عدل و مساوات کا نظام رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے اور معاشرے میں انصاف کے قیام کے لیے ان تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے ملک کے آئینی اور سیاسی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے قانون سازی کرنا آئین اور جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق ریاست کے ہر ادارے کے اختیارات کی ایک آئینی حد اور دائرہ کار ہے، جبکہ ملک کے نظام میں اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن برقرار رہنا ضروری ہے۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ پارلیمنٹ میں ان کی آواز قوم تک نہیں پہنچنے دی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین اور پارلیمنٹ کو ان کے اصل راستے پر چلانا ضروری ہے تاکہ ریاستی امور آئینی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔
دہشت گردی کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اختیار کی گئی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مرض بڑھتا جائے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ حکمت عملی میں کوئی نقص موجود ہے، اس لیے موجودہ صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔
صوبوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ریاست کو تقسیم کے بجائے اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست ماں ہے تو ماں اپنی اولاد کو جوڑتی ہے، تقسیم نہیں کرتی، لہٰذا صوبوں کو توڑنے کے بجائے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے صوبوں کے مالی حقوق پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے حقوق اور نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں کمی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان آئینی و مالی معاملات کو باہمی اتفاق اور آئینی اصولوں کے مطابق آگے بڑھانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم، سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی ملکی مفاد میں نہیں۔ ان کے مطابق ملک کو مزید تقسیم اور سیاسی انتشار سے نکالنے کے لیے قومی سطح پر اتفاق اور آئین کی بالادستی ضروری ہے۔
آئین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ اگر آئین ختم ہوگیا تو ملک کو دوبارہ سمیٹنا انتہائی مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی آئین اور پارلیمنٹ کو ان کے اصل راستے پر چلانا چاہتی ہے۔
انہوں نے 18ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم اب حلق کا کانٹا بنی ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کابینہ کا اختیار کسی اور کے پاس نہیں جانا چاہیے اور حکومتی اختیارات کو آئینی دائرے میں رہنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں سیرت النبی ﷺ، آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کے اختیار، اداروں کے درمیان توازن، صوبائی حقوق، این ایف سی ایوارڈ اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی سمیت مختلف اہم قومی معاملات پر اپنی جماعت کا مؤقف پیش کیا۔

Related posts

اڈیالہ جیل میں عمران خان سے بہن نورین نیازی کی دو ہفتوں میں دوسری ملاقات، 40 منٹ تک جاری رہی

افسر شاہی کے 33 ریٹائرڈ افسران بیرون ملک منتقل، غیر ملکی کرنسی میں پنشن کی ادائیگی کا انکشاف

عمران کی اسپتال منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہین عدالت کی درخواست پر اعتراض ختم، نمبر الاٹ