عمران خان کیلئے ریلیف کا تسلسل، اہل خانہ کی ملاقاتیں سیاسی بیانات نہ دینے سے مشروط

اسلام آباد: جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے اہل خانہ کی ملاقاتوں کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق عمران خان کے خاندان کو ملاقاتوں میں مزید سہولت اسی صورت میں جاری رہنے کا امکان ہے جب طے شدہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جائے، خصوصاً ملاقات کے بعد پریس کانفرنس یا سیاسی بیان جاری نہ کرنے کی شرط برقرار رکھی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کی بہن نورین خانم کو منگل کے روز ایک بار پھر اپنے بھائی سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ چند ہی روز کے دوران یہ عمران خان کے ساتھ ان کی دوسری ملاقات تھی، جسے اہل خانہ کے لیے ملاقاتوں کے معاملے میں مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اہل خانہ کی جانب سے طے شدہ ضابطہ کار کی پابندی جاری رہی تو عمران خان سے خاندانی ملاقاتوں پر عائد بعض پابندیوں میں مزید نرمی کا امکان ہے۔ حکام کی جانب سے اس حوالے سے بنیادی توجہ اس بات پر ہے کہ ملاقاتوں کو سیاسی سرگرمی یا میڈیا پیغام رسانی کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔
ملاقات کے بعد میڈیا گفتگو سے گریز کی شرط
باخبر ذرائع کے مطابق عمران خان سے ملاقات کرنے والے اہل خانہ کو یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ ملاقات کے بعد وہ پریس کانفرنس یا سیاسی نوعیت کی میڈیا گفتگو نہیں کریں گے۔
ذرائع کے مطابق ملاقاتوں کے معاملے پر یہ مفاہمت سپریم کورٹ میں جاری کارروائی کے دوران بھی سامنے آئی ہے۔ یہ معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے متنازع چلا آرہا تھا کیونکہ عمران خان کے اہل خانہ کی جانب سے ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے گفتگو کی جاتی رہی ہے، جبکہ عمران خان سے منسوب بعض پیغامات اور بیانات بعد ازاں سوشل میڈیا پر بھی سامنے آتے رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان بیانات میں بعض اوقات اسٹیبلشمنٹ پر شدید تنقید بھی کی جاتی رہی، جس کے باعث اہل خانہ کی ملاقاتوں کے معاملے میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔
ڈاکٹر عظمیٰ اور علیمہ خان کی ملاقاتوں کا حوالہ
ذرائع نے عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ کی ایک سابقہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر سخت الفاظ میں عوامی سطح پر گفتگو کی، حالانکہ اس سے قبل ملاقات کے بعد سیاسی یا میڈیا بیان نہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
اسی طرح عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی اپنے بھائی سے ملاقاتوں کے بعد متعدد مرتبہ میڈیا سے گفتگو کرتی رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس صورتحال سے یہ خدشات پیدا ہوئے کہ خاندانی ملاقاتوں کو سیاسی پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ملاقاتوں میں مزید سہولت کا امکان
ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام عمران خان کے اہل خانہ کو باقاعدگی سے ملاقات کی اجازت دینے پر آمادہ ہیں، تاہم اس کے لیے طے شدہ ایس او پیز کی پابندی ضروری ہوگی۔
ذرائع کے مطابق اگر اہل خانہ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس یا سیاسی بیان جاری کرنے سے گریز کرتے رہے تو ملاقاتوں کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری رہنے کی توقع ہے اور سابقہ پابندیوں میں مزید نرمی بھی ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے موجودہ صورتحال کا موازنہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی اور ان کے اہل خانہ کی ملاقاتوں سے بھی کیا، جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ خاندانی ملاقاتیں نسبتاً باقاعدگی سے جاری ہیں۔
سیاسی محاذ آرائی سے ملاقاتوں کو الگ رکھنے پر زور
ذرائع کے مطابق موجودہ پالیسی کا بنیادی مقصد خاندانی ملاقاتوں کو سیاسی سرگرمیوں اور میڈیا محاذ آرائی سے الگ رکھنا ہے۔ حکام کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جارہا ہے کہ اگر ملاقاتوں کے بعد سیاسی بیانات یا عمران خان سے منسوب متنازع پیغامات سامنے نہ آئیں تو اہل خانہ کے ساتھ ملاقاتوں میں رکاوٹ کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس او پیز پر مسلسل عمل درآمد کی صورت میں عمران خان کو اہل خانہ سے زیادہ باقاعدگی سے ملاقات کا موقع مل سکتا ہے، جس سے نہ صرف خاندان کے ساتھ رابطہ برقرار رہے گا بلکہ ملاقاتوں کو سیاسی تنازع بننے سے بھی روکا جاسکے گا۔
یوں موجودہ پیش رفت کو عمران خان اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک محدود مگر اہم ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ملاقاتوں میں مزید آسانی کا دارومدار طے شدہ شرائط اور ایس او پیز پر عمل درآمد پر ہوگا۔

Related posts

پمز کے مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کیلئے ایک ارب 6 کروڑ 94 لاکھ روپے مختص

پمز کے مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کیلئے ایک ارب 6 کروڑ 94 لاکھ روپے مختص

پمز میں فائر سیفٹی انتظامات ناقص ہونے کا انکشاف، فائر پوائنٹ پر پانی بھی موجود نہیں تھا