اسرائیلی جارحیت کیخلاف آواز اٹھانے پر امریکا میں ایک اور طالبعلم گرفتار

اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر امریکا میں ایک اور طالب علم کو گرفتار کر لیا گیا۔

امریکی ریاست میساچوسٹس کی ٹفٹس یونیورسٹی میں زیر تعلیم ترک طالبہ رومیسہ کو امریکی امیگریشن حکام نے گرفتار کر لیا۔

رومیسہ روزہ افطار کرنے جا رہی تھیں کہ نقاب پوش، سادہ کپڑوں میں افسران اسے ہتھکڑی لگا کر اپنے ساتھ لے گئے۔

رپورٹس کے مطابق رومیسہ نے فلسطینیوں کے حامی مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔

یونیورسٹی کے صدر کے مطابق امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ رومیسہ کا ویزا ختم کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے والے طالب علموں کے امریکی یونیورسٹیوں میں احتجاج پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور فلسطین کے حق میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

Related posts

سینیٹ قائمہ کمیٹی اجلاس میں عابد شیر علی اور ایمل ولی خان کے درمیان تلخ کلامی

محسن نقوی کے ’’عوام کی مرضی‘‘ کے بیان نے نئے صوبوں کے قیام پر آئینی سوالات اٹھا دیے

میر رضا قتل کیس میں اہم فارنزک پیش رفت، جائے وقوعہ سے ملنے والا خول سکیورٹی گارڈ کے پستول سے میچ نہ ہوسکا