لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو حراست میں لیے جانے کے باوجود پولیس تاحال ان کی باقاعدہ گرفتاری نہیں ڈال سکی۔
پولیس ذرائع کے مطابق حماد اظہر کے خلاف 9 مئی کے واقعات اور اس کے بعد مختلف مقدمات درج ہیں، جن میں انہیں لاہور سمیت دیگر شہروں کی پولیس مطلوب قرار دے چکی ہے۔ حماد اظہر گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف مقدمات کے باعث پولیس کو مطلوب تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حماد اظہر کو حراست میں لیے جانے کے بعد پولیس کی جانب سے ان کے خلاف درج مقدمات اور ان کی گرفتاری کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ متعلقہ ادارے مقدمات سے متعلق دستیاب ریکارڈ اور دستاویزات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ قانونی کارروائی کا تعین کیا جاسکے۔
پولیس حکام کے مطابق حماد اظہر کے خلاف درج مقدمات کی دستاویزات تیار کی جارہی ہیں، جنہیں قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ پولیس اس امر کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ کن مقدمات میں حماد اظہر کو گرفتار کیا جاسکتا ہے اور انہیں عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے کیا قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق مختلف مقدمات کی تفصیلات اکٹھی کرنے اور متعلقہ تھانوں سے ریکارڈ حاصل کرنے کا عمل جاری ہے۔ پولیس کی جانب سے مقدمات کی نوعیت اور قانونی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ حماد اظہر کو گزشتہ روز ملتان سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں لاہور پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ ان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنما کے خلاف درج مقدمات اور آئندہ قانونی کارروائی ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
پولیس کی جانب سے تاحال حماد اظہر کی کسی مقدمے میں باضابطہ گرفتاری ڈالنے کی تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔