بلتستان میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے مصنوعی گلیشیئر بنانے کا طریقہ کارگر ثابت

بلتستان ڈویژن میں آئس اسٹوپا بنا کر پانی محفوظ کرنے کا طریقہ کارگر ثابت ہوگیا۔

بلتستان بھر کے مختلف دیہات میں کسان مصنوعی گلیشیئر بنا کر پانی کی کمی پر قابو پا رہے ہیں، بہار کے موسم میں کاشت کاری کیلئے ندی نالوں میں پانی کی کمی ہوتی ہے جسے آئس اسٹوپا کے ذریعے پورا کیا جا رہاہے۔

حسین آباد گاؤں کے رہائشی ایگریکلچرل ریسرچ آفیسر محمد رضا نے چند سال قبل بہتے پانی کو پائپ کے ذریعے بلندی تک پہنچا کر منجمد کرنے کا منفرد تجربہ کیا اور اس تجربے کی کامیابی سے مارچ اور اپریل میں فصلوں کیلئے پانی کی کمی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہوا ہے۔

دریا سندھ سمیت کئی بڑے دریاؤں کی گزر گاہوں پر واقع دیہاتوں میں موسم بہار میں پانی کی کمی کا سامنہ رہتا ہے، گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں تاخیر سے ندی نالے خشک ہوتے ہیں اور کسانوں کو بارش کے پانی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

جنوری اور فروری کی شدید سردی کے دوران گاؤں کے بلند مقام پر پانی کا اسپرے کرکے کے بنائے جانے والا مصنوعی گلیشر پانی کا متبادل اور مفید ذریعہ بنا ہے اور اب بلتستان بھر کے مختلف دیہاتوں میں کسان یہ مصنوعی گلیشیئر بنا کر پانی کی کمی پر قابو پا رہے ہیں۔

Related posts

نان بائی ایسوسی ایشن اور محکمہ خوراک کے درمیان روٹی اور نان کی قیمتوں کے تعین پر اختلافات برقرار

حکومت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے

حکومت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو گئے