مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کو حکومت کی جانب سے دیے گئے کیش انعامات کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کر دی گئیں، جن کے مطابق مختلف قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو مجموعی طور پر 20 کروڑ 64 لاکھ 50 ہزار روپے کے انعامات دیے گئے۔
حکومتی دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ انعام قومی ایتھلیٹ ارشد ندیم کو دیا گیا، جنہیں عالمی سطح پر تاریخی کامیابیوں کے اعتراف میں 15 کروڑ 20 لاکھ روپے کا کیش ایوارڈ ملا۔ ان کے کوچ سلمان اقبال بٹ کو بھی ایک کروڑ 6 لاکھ روپے انعام سے نوازا گیا۔
ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ جیتنے والے محمد آصف کو 25 لاکھ روپے کا انعام دیا گیا، جبکہ سارک اسنوکر چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے پر انہیں مزید 5 لاکھ روپے دیے گئے۔ اسی ایونٹ میں کانسی کا تمغہ جیتنے پر محمد نسیم اختر کو ایک لاکھ روپے کا انعام ملا۔
ایشین انڈر 21 سنوکر چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والے احسن رمضان کو 5 لاکھ روپے کا کیش ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے علاوہ ساؤتھ ایشین ریجنل ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کرنے والے مختلف کھلاڑیوں کو مجموعی طور پر 14 لاکھ 50 ہزار روپے کے انعامات دیے گئے۔
دستاویزات کے مطابق اسپیشل اولمپکس ورلڈ ونٹر گیمز میں مختلف میڈلز جیتنے والے پاکستانی کھلاڑیوں کو مجموعی طور پر 30 لاکھ 50 ہزار روپے کے کیش انعامات سے نوازا گیا، جسے خصوصی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ ایشین جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کرنے والے قومی کھلاڑیوں کو 17 لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ ورلڈ انڈر 23 انفرادی اسکواش چیمپئن شپ جیتنے والے مختلف کھلاڑیوں کو مجموعی طور پر 75 لاکھ روپے کے انعامات دیے گئے۔
حکومتی ریکارڈ کے مطابق ایشین اوپن عالمی ٹائیکوانڈو چیمپئن شپ میں مختلف میڈلز حاصل کرنے والے پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی بھرپور حوصلہ افزائی فراہم کی گئی اور انہیں مجموعی طور پر 1 کروڑ 15 لاکھ روپے کے کیش انعامات دیے گئے۔
حکام کے مطابق ان کیش ایوارڈز کا مقصد قومی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی، کھیلوں کے فروغ اور عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت شناخت کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ حکومت مستقبل میں بھی نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کی سرپرستی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر چکی ہے۔