واشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل ہوں گے۔ انہوں نے اس بات کا اظہار ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں اور اگرچہ وہ براہِ راست میز پر موجود نہیں ہوں گے، تاہم پالیسی اور حکمتِ عملی کے حوالے سے ان کا کردار موجود رہے گا۔
“ایران پہلے سخت مؤقف اپناتا رہا”
امریکی صدر نے کہا کہ ایران ماضی میں مذاکرات کے دوران سخت مؤقف اختیار کرتا رہا ہے، تاہم گزشتہ برس امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد تہران کو اپنے اقدامات کے ممکنہ نتائج کا اندازہ ہوا۔ ان کے بقول اس بار ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدہ دکھائی دے رہا ہے اور ممکنہ طور پر کسی قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات مثبت پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔
جنیوا میں اہم سفارتی مرحلہ
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر اہم مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے شہر Geneva میں متوقع ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور عالمی طاقتوں کے مفادات کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کسی فریم ورک پر متفق ہو جاتے ہیں تو اس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈیوں میں استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
سعودی عرب اور یو اے ای تنازع پر تبصرہ
صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران کہا کہ وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کسی بھی ممکنہ تنازع میں براہِ راست ملوث نہیں ہیں، تاہم اگر ضرورت پڑی تو وہ اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں استحکام امریکا کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے اور واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
عالمی نظریں مذاکرات پر مرکوز
امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے پیش نظر جنیوا مذاکرات کو فیصلہ کن مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں ان مذاکرات پر مرکوز ہیں، کیونکہ کسی بھی پیش رفت کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔