کنساس سٹی: فیفا ورلڈ کپ مہم کے آغاز سے قبل انگلینڈ کی قومی فٹبال ٹیم ایک غیر متوقع صورتحال سے دوچار ہو گئی، جہاں ٹیم کے سامان کی منتقلی کے دوران چوری کی واردات سامنے آئی ہے۔ واقعے نے انتظامیہ اور ٹیم حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق انگلینڈ ٹیم کے سامان کو کنساس سٹی کے سووپ ساکر سٹی کمپلیکس منتقل کیا جا رہا تھا کہ نامعلوم افراد نے سامان لے جانے والی گاڑی کے تالے توڑ کر قیمتی اشیا چوری کر لیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق چوری ہونے والے سامان میں کھلاڑیوں کے تربیتی جوتے، فٹبالز اور دیگر اسپورٹس آلات شامل ہو سکتے ہیں، تاہم مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔
فٹبال ایسوسی ایشن کے ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد سامان کی مکمل فہرست کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کون کون سی اشیا چوری ہوئی ہیں اور ان کی مالیت کیا ہے۔ انتظامیہ متبادل انتظامات پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ ٹیم کی تیاریوں پر کم سے کم اثر پڑے۔
رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کی ٹیم اور کوچنگ اسٹاف ہفتے کے روز کنساس سٹی پہنچنے والے ہیں جبکہ سامان ان کی آمد سے قبل وہاں منتقل کیا جا رہا تھا۔ واقعے نے ورلڈ کپ کے آغاز سے پہلے ٹیم کے انتظامی معاملات میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ فٹبال ایسوسی ایشن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے چوری کے شبے میں دو افراد کو گرفتار بھی کیا ہے، جن سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ چوری شدہ سامان کی بازیابی ممکن بنائی جا سکے۔
کھیلوں کے مبصرین کے مطابق اگر ضروری سامان بروقت دستیاب نہ ہو سکا تو اس سے انگلینڈ کی ابتدائی تیاریوں پر اثر پڑ سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ٹیم اپنا پہلا تربیتی سیشن شروع کرنے والی ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم اتوار کے روز کنساس سٹی میں اپنی پہلی باقاعدہ پریکٹس کرے گی، جس کے بعد وہ اپنے افتتاحی میچ کی تیاریوں کو حتمی شکل دے گی۔
واضح رہے کہ انگلینڈ کو اپنے پہلے میچ میں کروشیا کا سامنا کرنا ہے اور ٹیم میگا ایونٹ میں مضبوط آغاز کے لیے پُرامید ہے، تاہم سامان کی چوری کا یہ واقعہ ورلڈ کپ مہم کے آغاز سے قبل ایک غیر متوقع چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔