امریکی میڈیا نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مبینہ “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (Memorandum of Understanding) کا مکمل مسودہ جاری کر دیا ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی، اقتصادی تعاون، پابندیوں کے خاتمے اور جوہری پروگرام سے متعلق اہم نکات شامل ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے 14 شقوں پر مشتمل اس دستاویز کی تفصیلات میڈیا کو فراہم کیں۔ دستاویز کا عنوان “Islamabad Memorandum of Understanding between the United States of America and the Islamic Republic of Iran” رکھا گیا ہے۔
مسودے کے مطابق امریکا، ایران اور ان کے اتحادی موجودہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری اور مستقل جنگ بندی پر متفق ہوں گے۔ معاہدے میں اس امر کا بھی عہد کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک اور ان کے شراکت دار مستقبل میں ایک دوسرے کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی، طاقت کے استعمال یا دھمکی آمیز رویے سے گریز کریں گے۔ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو بھی معاہدے کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران ایک دوسرے کی قومی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کا احترام کریں گے اور کسی بھی قسم کی اندرونی مداخلت سے اجتناب برتیں گے۔ دونوں ممالک 60 روز کے اندر ایک حتمی اور جامع معاہدہ تیار کرنے کے لیے مذاکرات شروع کریں گے، جس کی مدت باہمی رضامندی سے بڑھائی جا سکے گی۔
مسودے کے مطابق یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد امریکا ایران کے خلاف اپنی بحری پابندیوں اور ناکہ بندی کو ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا، جو 30 دن کے اندر مکمل ہو جائے گا۔ اس عرصے کے دوران جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کیا جائے گا۔ مزید برآں، حتمی معاہدے کے بعد امریکا ایران کے قریب موجود اپنی فوجی تنصیبات اور افواج کو مرحلہ وار واپس بلائے گا۔
دوسری جانب ایران اس بات کی ضمانت دے گا کہ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا معاوضہ آمد و رفت برقرار رہے گی۔ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں موجود عسکری رکاوٹوں اور بارودی سرنگوں کو بھی ہٹایا جائے گا جبکہ ایران اور عمان خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر مشاورت کریں گے۔
اقتصادی شعبے میں امریکا اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کم از کم 300 ارب ڈالر کے ترقیاتی اور تعمیر نو کے منصوبے پر کام کرے گا، جس کا مقصد ایران کی معیشت کو مستحکم بنانا اور جنگ سے متاثرہ شعبوں کی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہوگا۔
مسودے کے مطابق ایران کے خلاف عائد مختلف نوعیت کی پابندیوں کو بھی مرحلہ وار ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز اور امریکا کی یکطرفہ پابندیاں شامل ہیں۔ پابندیوں کے خاتمے کا طریقہ کار اور شیڈول فریقین کی باہمی مشاورت سے طے کیا جائے گا۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔ معاہدے کے تحت افزودہ یورینیم کے موجودہ ذخائر کے بارے میں ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا، جسے آئی اے ای اے کی نگرانی میں کم افزودگی کی سطح تک لایا جائے گا۔ اس کے علاوہ جوہری سرگرمیوں کے دیگر پہلوؤں پر بھی مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔
حتمی معاہدے تک دونوں ممالک موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے پر متفق ہوں گے۔ اس دوران ایران اپنے جوہری پروگرام میں مزید توسیع نہیں کرے گا جبکہ امریکا نئی پابندیاں عائد کرنے یا خطے میں اضافی فوجی دستے تعینات کرنے سے گریز کرے گا۔
مسودے میں یہ بھی شامل ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ دستخط کے فوراً بعد ایرانی تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ان سے متعلق بینکاری، انشورنس اور ٹرانسپورٹ خدمات کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کرے گا۔ اسی طرح ایران کے منجمد مالی اثاثوں کو بھی مرحلہ وار استعمال کے لیے دستیاب بنایا جائے گا، جن کے استعمال کا طریقہ کار بعد کے مذاکرات میں طے ہوگا۔
معاہدے پر عملدرآمد اور اس کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے گا۔ مزید برآں، بعض ابتدائی شقوں پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد باقی نکات پر حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات آگے بڑھائے جائیں گے۔
دستاویز کے آخری نکتے کے مطابق مستقبل میں طے پانے والے حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک لازمی اور پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی، جس سے اس معاہدے کو بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔
اگر یہ مفاہمتی یادداشت مکمل طور پر نافذ العمل ہو جاتی ہے تو اسے مشرق وسطیٰ میں حالیہ دہائیوں کی سب سے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے، جو خطے کی سلامتی، عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔