اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ٹیکس نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے فنانس بل میں سخت اقدامات تجویز کر دیے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کاروباری اداروں کی ڈیجیٹل انٹیگریشن کو لازمی قرار دیتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے اور کاروبار سیل کرنے کی تجاویز پیش کی ہیں۔
فنانس بل کے مطابق وہ کاروباری ادارے جو مقررہ مدت کے اندر اپنے کاروبار کو ایف بی آر کے ڈیجیٹل نظام سے منسلک نہیں کریں گے، ان پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ مزید برآں، مقررہ وقت گزرنے کے باوجود انٹیگریشن نہ کرنے والے کاروباروں کو سیل کرنے کا اختیار بھی متعلقہ حکام کو دیا جائے گا۔
بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ مسلسل خلاف ورزی یا ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ کاروبار پر 50 لاکھ روپے تک اضافی جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، جس کا مقصد ٹیکس نظام میں مکمل ڈیجیٹل شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔
فنانس بل میں جعلی اور فرضی ٹیکس انوائسز کے خلاف بھی سخت اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ مجوزہ قانون کے تحت جعلی انوائس جاری کرنے والے افراد یا اداروں پر انوائس کی مکمل مالیت کے برابر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے جعلی دستاویزات کے ذریعے ٹیکس چوری کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
اسی طرح ان پٹ ٹیکس اور آؤٹ پٹ ٹیکس کے درمیان غیر قانونی یا غیر وضاحت شدہ فرق ثابت ہونے کی صورت میں 20 فیصد جرمانہ عائد کرنے کی تجویز بھی فنانس بل کا حصہ ہے۔
مزید برآں، ایف بی آر نے جعلی انوائسز کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے صرف سپلائرز ہی نہیں بلکہ ایسے خریداروں کو بھی کارروائی کے دائرے میں لانے کی تجویز دی ہے جو جعلی انوائسز سے فائدہ اٹھاتے ہوں۔ مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی خریدار 60 دن کے اندر غلط طور پر حاصل کردہ ٹیکس کریڈٹ واپس نہیں کرتا تو اس پر بھی 20 فیصد اضافی جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، دستاویزی معیشت کو فروغ دینے اور ٹیکس فراڈ کی روک تھام کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاہم کاروباری حلقوں کی جانب سے ان تجاویز پر مختلف آراء سامنے آنے کا امکان ہے۔