اسلام آباد: وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج اور لانگ مارچ ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے، تاہم کسی گروہ کو مسلح افراد کے ساتھ ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے یا مظفرآباد کی جانب طاقت کے ذریعے پیش قدمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام نے بے شمار قربانیاں دے کر تحریکِ آزادی کشمیر کو زندہ رکھا ہے، اس جدوجہد کو کسی ایک تنظیم یا کمیٹی کے مطالبات کی بنیاد پر نقصان نہیں پہنچنے دیا جا سکتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بیرونی عناصر کی مالی اور سیاسی معاونت حاصل ہے، جس کے باعث اس کے بعض مطالبات قومی مفادات اور ریاستی پالیسی سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔
رانا ثناءاللہ کے مطابق حکومت نے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے متعدد مواقع پر مذاکرات اور مختلف تجاویز پیش کیں، تاہم متعلقہ قیادت نے ان تجاویز کو قبول کرنے کے بجائے اپنے مؤقف پر اصرار جاری رکھا۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے ابتدائی مطالبات اور بعد میں سامنے آنے والے مطالبات میں واضح فرق دیکھا گیا۔ ان کے بقول ابتدا میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے کا معاملہ زیرِ بحث نہیں تھا، لیکن بعد ازاں یہ مطالبہ بھی سامنے آیا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ کمیٹی کی جانب سے اراکین کے حلف نامے میں پاکستان سے الحاق کے حوالے سے موجود شقوں کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
معاونِ خصوصی نے کہا کہ ریاست کسی بھی شہری کے جمہوری حقِ احتجاج کا احترام کرتی ہے، تاہم قانون کی عملداری، عوامی سلامتی اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور آئینی راستہ ہی بہترین ذریعہ ہے، جبکہ تصادم اور طاقت کے استعمال سے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
رانا ثناءاللہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا مسلح کارروائی کو قانون کے مطابق روکا جائے گا۔