ایل این جی کی قیمت میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کر دیا گیا

ایل این جی کی قیمت میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد صنعتی، کمرشل اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے جولائی کے لیے ایل این جی کی نئی فروختی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت میں 6.45 ڈالر تک کا غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔

اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) کے نظام پر ایل این جی کی فروختی قیمت بڑھ کر 25.83 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی ہے، جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کے نظام پر یہ قیمت 25.80 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق یہ اضافہ ایل این جی کی قیمتوں میں اب تک کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال اور عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی حالات کے باعث پاکستان کو جولائی کے دوران فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے پانچ ایل این جی کارگوز بلند نرخوں پر خریدنا پڑے۔ ان مہنگے کارگوز کی درآمدی لاگت براہ راست فروختی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنی، جس کے نتیجے میں جون کے مقابلے میں جولائی کی قیمتوں میں نمایاں چھلانگ دیکھنے میں آئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سپلائی چین پر دباؤ، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے لیے ایندھن کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو آنے والے مہینوں میں بھی توانائی کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ایل این جی کی قیمت میں اس بڑے اضافے کے اثرات بجلی کی پیداواری لاگت، صنعتی پیداواری اخراجات اور مجموعی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔

Related posts

حکومت نے پیٹرولیم شعبے میں مرحلہ وار ڈی ریگولیشن کا عمل شروع کرنے کی تیاری کرلی

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

چوہدری شجاعت حسین سے چین کے اعلیٰ سطحی سرکاری و نجی کاروباری وفد کی ملاقات