دو دہائیاں قبل شاید ہی کسی نے تصور کیا ہو کہ ایک چھوٹی سی ڈیوائس انسان کی روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر پہلو پر اس قدر گہرے اثرات مرتب کرے گی

دو دہائیاں قبل شاید ہی کسی نے تصور کیا ہو کہ ایک چھوٹی سی ڈیوائس انسان کی روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر پہلو پر اس قدر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ 21ویں صدی کے آغاز میں پرسنل کمپیوٹر، ہوم انٹرنیٹ اور موبائل فون الگ الگ ٹیکنالوجیز تصور کی جاتی تھیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اسمارٹ فون نے ان تمام سہولیات کو ایک ہی ڈیوائس میں سمو کر ٹیکنالوجی کے استعمال کا انداز بدل کر رکھ دیا۔

آج اسمارٹ فون صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ڈیجیٹل ساتھی بن چکا ہے۔ یہی ڈیوائس کیمرہ، فلیش لائٹ، کیلکولیٹر، گھڑی، الارم، بینکنگ سسٹم، نیویگیشن، فٹنس ٹریکر، موسیقی، ویڈیو اسٹریمنگ اور بے شمار دیگر خدمات ایک ہی جگہ فراہم کرتی ہے۔ اسی ہمہ گیر صلاحیت نے متعدد ایسی ڈیوائسز کو تقریباً متروک بنا دیا ہے جو کبھی جدید ٹیکنالوجی کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔

سب سے پہلے لینڈ لائن فون اس تبدیلی کی زد میں آئے۔ ایک وقت تھا جب ہر گھر اور دفتر میں لینڈ لائن فون موجود ہوتا تھا، مگر موبائل اور بعد ازاں اسمارٹ فون کی آمد کے بعد اس کی ضرورت تیزی سے کم ہوتی گئی۔ اب کالز، ویڈیو چیٹ اور انٹرنیٹ کالنگ ایپس نے روایتی ٹیلی فون کا کردار محدود کر دیا ہے۔

اسی طرح ڈیجیٹل کیمروں کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی آئی۔ اسمارٹ فون کیمروں میں مصنوعی ذہانت، نائٹ موڈ، آپٹیکل زوم اور ہائی ریزولوشن فوٹوگرافی جیسی جدید سہولیات شامل ہونے کے بعد عام صارفین کے لیے الگ ڈیجیٹل کیمرہ خریدنے کی ضرورت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں کمپیکٹ ڈیجیٹل کیمروں کی فروخت میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔

پاکٹ کیلکولیٹر، الارم کلاک اور کلائی گھڑی جیسی ڈیوائسز بھی اب بڑی حد تک اسمارٹ فون کے اندر سمٹ چکی ہیں۔ چند لمس کے ذریعے پیچیدہ حساب کتاب، متعدد الارمز، ٹائمر، اسٹاپ واچ اور عالمی وقت جیسی سہولیات دستیاب ہونے سے ان روایتی آلات کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔

موسیقی سننے کے انداز میں بھی اسمارٹ فون نے انقلاب برپا کیا۔ ایک وقت میں ایم پی تھری پلیئرز اور سی ڈیز موسیقی کا بنیادی ذریعہ تھے، لیکن اب اسٹریمنگ سروسز اور آن لائن میوزک پلیٹ فارمز نے ان کی جگہ لے لی ہے۔ صارفین ہزاروں گانے بغیر ڈاؤن لوڈ کیے صرف انٹرنیٹ کے ذریعے سن سکتے ہیں۔

ریڈیو بھی اسی تبدیلی سے متاثر ہوا ہے۔ اگرچہ روایتی ایف ایم ریڈیو اب بھی موجود ہے، تاہم زیادہ تر افراد اسمارٹ فون پر آن لائن ریڈیو، پوڈکاسٹس اور میوزک ایپس کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے روایتی ریڈیو کا استعمال پہلے کے مقابلے میں کم ہو گیا ہے۔

نیویگیشن کے شعبے میں بھی اسمارٹ فون نے علیحدہ جی پی ایس ڈیوائسز کو تقریباً غیر ضروری بنا دیا ہے۔ گوگل میپس اور دیگر میپنگ ایپس کی بدولت صارفین نہ صرف راستے تلاش کرتے ہیں بلکہ ٹریفک کی صورتحال، متبادل راستوں اور متوقع سفر کے وقت سے بھی فوری آگاہی حاصل کر لیتے ہیں۔

اسی طرح واکی ٹاکی، فیچر فون اور دیگر کئی روایتی الیکٹرانک آلات بھی اسمارٹ فون کی وسیع صلاحیتوں کے باعث پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ آج ایک ہی ڈیوائس رابطے، تفریح، تعلیم، کاروبار، خریداری، بینکاری اور دفتری امور سمیت درجنوں کام بیک وقت انجام دے سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اس کی مسلسل ترقی، نئی ایپس کی دستیابی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید فیچرز ہیں۔ مستقبل میں توقع کی جا رہی ہے کہ یہی ڈیوائس مزید ایسی ٹیکنالوجیز کو اپنے اندر سمو لے گی جو آج الگ آلات کی صورت میں استعمال ہو رہی ہیں، یوں اسمارٹ فون آنے والے برسوں میں بھی ڈیجیٹل زندگی کا سب سے اہم مرکز بنا رہے گا۔

Related posts

رواں سال ملک پر 400 سے زائد سائبر حملوں کی کوششیں کی گئیں

پاکستان سمیت دنیا بھر میں فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز بحال، کئی گھنٹے صارفین کو مشکلات کا سامنا

چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا بڑا انکشاف