امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاری کی اطلاعات

امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دو امریکی عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن رواں ہفتے کے آخر میں ایران پر تازہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جن میں ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر، میزائل تنصیبات اور دیگر اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے متعدد آپریشنل منصوبے تیار کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں ایران کی میزائل صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے دو ہفتوں تک جاری رہنے والی شدید فضائی بمباری بھی شامل بتائی جا رہی ہے، جبکہ حساس عسکری اور اسٹریٹجک تنصیبات کو بھی ممکنہ اہداف میں شامل کیا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے بھی مختلف عسکری آپشنز تیار کیے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تہران کے جنوب میں واقع پکیکس ماؤنٹین کا علاقہ بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتا ہے، جبکہ گزشتہ چند روز کے دوران امریکی افواج کی تیاریوں اور عسکری نقل و حرکت میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فی الحال ایسی کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں جن سے یہ ظاہر ہو کہ ممکنہ امریکی کارروائی میں اسرائیل بھی براہ راست شریک ہوگا، تاہم خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مزید کارروائی کے احکامات جاری کر چکے ہیں، جبکہ تہران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی حملوں سے متعلق یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے کشیدہ سیکیورٹی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور خطے کے مجموعی استحکام پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

Related posts

امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاری کی اطلاعات

بورڈ آف پیس کی سرپرستی میں غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے سے متعلق ایک معاہدہ طے پا گیا

سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات