لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب بار کونسل ترامیمی بل منظور کرنے کے خلاف درخواست پر عبوری حکم جاری

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بار کونسل ترامیمی بل منظور کرنے کے خلاف درخواست پر عبوری حکم جاری کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل کو نوٹس جاری کرتے ہوے جواب طلب کر لیا–

جسٹس خالد اسحاق نے مقامی وکیل فہد اکرام بھٹی کی درخواست پر عبوری حکم جاری کردیا،درخواست میں فیڈریشن اف پاکستان ۔وزرات قانون ۔چیرمین سینٹ ۔سپیکر قومی اسمبلی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،عدالت کو بتایا گیا کہ بار ایسوسی ایشنز کے امیدواروں کی اہلیت پہلے ہی طے ہے،وفاقی حکومت نے لیگل پریکٹیشنر اینڈ بار کونسل ایکٹ 1973 میں من پسند ترامیم کر دیں،اس بابت ترامیمی مسودہ وزرات قانون کی سٹینڈنگ کمیٹی کے پاس تھا،حکومت ان ترامیم کے ذریعے تحصیل بار ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز اور ہائی کورٹ میں امیدواروں کی اہلیت پر قدغن لگانا چاہتی ہے،کسی بھی بار کے امیدوار کے لیے دس سالہ سے زائد تک پریکٹس رکھنا لازمی قرار دے دیا گیا،عدالت نے درخواست پر سماعت 29 جولائی تک ملتوی کردی–

Related posts

(نیب) کے مقدمات میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کا اختیار سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت کو حاصل

ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ڈگریاں جمع نہ کرانے پر پنجاب بار کونسل کا بڑا ایکشن

نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں اسکولوں اور دیگر عوامی سہولیات کی اراضی کمرشل مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی