کراچی: ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے مثبت اثرات کرنسی مارکیٹ میں بھی نمایاں طور پر سامنے آنے لگے ہیں، جہاں ایرانی ریال کی طلب اور قدر میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق امن معاہدے کے بعد صرف چار روز کے دوران ملک بھر میں تقریباً 2 کھرب ایرانی ریال خریدے جا چکے ہیں، جو سرمایہ کاروں اور عوامی دلچسپی میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔
ملک بوستان نے بتایا کہ معاہدے کے اعلان کے پہلے ہی روز تقریباً 40 ارب ایرانی ریال کی خریداری ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں خریداری کا رجحان تیزی سے بڑھتا گیا اور چند ہی دنوں میں مجموعی حجم 2 کھرب ریال تک پہنچ گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور تعلقات میں بہتری کے امکانات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے، جس کے باعث ایرانی کرنسی کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق طلب میں اضافے کے ساتھ ایرانی ریال کی قدر بھی بہتر ہو رہی ہے۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار مستقبل میں ایرانی معیشت میں بہتری اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کی توقعات کے پیش نظر ایرانی ریال کی خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں استحکام برقرار رہا تو ایرانی معیشت کو مزید فائدہ پہنچ سکتا ہے، جس کے اثرات ایرانی کرنسی کی قدر اور خطے کی تجارتی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب ایکسچینج مارکیٹ میں ایرانی ریال کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اس کی قیمت میں مسلسل بہتری کا رجحان برقرار ہے، جبکہ سرمایہ کار آئندہ دنوں میں مزید اضافے کی توقعات بھی ظاہر کر رہے ہیں۔