امریکا کا 60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر نیا ٹیرف، پاکستان سمیت متعدد ممالک متاثر

واشنگٹن: امریکا نے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہ کرنے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے 60 سے زائد تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدی اشیا پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کر دیے ہیں، جن کا اطلاق 24 جولائی سے شروع ہو گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جن کی مختلف درآمدی مصنوعات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان ممالک کے خلاف کیا گیا ہے جو جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد روکنے اور متعلقہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس مرتبہ نئے ٹیرف کے نفاذ کے لیے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کا سہارا لیا ہے۔ اس اقدام کو ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی درآمدی اشیا پر 10 سے 50 فیصد تک اضافی ٹیرف نافذ کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا، تاہم موجودہ اقدام ایک مختلف قانونی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

امریکی فیصلے کے تحت ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے، جبکہ دیگر 38 ممالک کی درآمدات پر 12.5 فیصد ٹیرف لاگو ہوگا۔

دوسری جانب آسٹریلیا، برازیل اور بعض دیگر امریکی تجارتی شراکت داروں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیرمنصفانہ قرار دیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ وہ سفارتی اور قانونی ذرائع سے ان ٹیرف کو ختم کرانے کی کوشش کریں گے، جبکہ ناروے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس پر بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر نئے محصولات عائد کیے گئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف کا اطلاق تمام درآمدی مصنوعات پر نہیں ہوگا۔ خام تیل، قدرتی گیس، بعض غذائی اجناس، کھاد اور دیگر مخصوص مصنوعات کو اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اسی طرح اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیاں اور تانبا جیسی وہ مصنوعات جو پہلے ہی سیکشن 232 کے تحت قومی سلامتی کے ٹیرف کی زد میں ہیں، ان پر نئے ٹیرف کا اطلاق نہیں ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی اقدام سے متاثرہ ممالک کی برآمدات، تجارتی تعلقات اور عالمی سپلائی چین پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، جبکہ پاکستان سمیت کئی ممالک اس فیصلے کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔

Related posts

افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمت کے دعوؤں میں اضافہ، بدخشاں اور زیبک میں جھڑپوں کی اطلاعات

پینٹاگون پر میزائلوں کی کمی چھپانے کا الزام، امریکا کی جنگی تیاریوں پر سنگین سوالات

ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام سے متعلق ایک اہم معاہدے کی منظوری دے دی