بھارت میں طلبہ کا احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا، پولیس وین روکنے والی طالبہ ریہا ایّر کا بیان سامنے آ گیا

بھارت میں مبینہ پیپر لیک اور تعلیمی نظام کے خلاف جاری طلبہ احتجاج نے نئی شدت اختیار کر لی ہے۔ احتجاج کے دوران گرفتار طلبہ کو لے جانے والی پولیس وین کے سامنے کھڑی ہو کر اسے روکنے والی طالبہ ریہا ایّر نے اپنے اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس یہ سمجھ رہی تھی کہ طاقت کے زور پر طلبہ کی آواز دبا دی جائے گی، لیکن ایسا ممکن نہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریہا ایّر نے کہا کہ جب اس نے دیکھا کہ پولیس احتجاج کرنے والے طلبہ کو گرفتار کر کے لے جا رہی ہے تو اسے شدید غصہ آیا۔ اس کے بقول اس نے پولیس وین روکنے کا فیصلہ کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا بلکہ یہ ایک فوری ردعمل تھا۔

ریحا ایّر نے کہا، “مجھے لگا کہ پولیس طاقت کے بل بوتے پر طلبہ کو خاموش کرانا چاہتی ہے، لیکن میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو شاید یہی کرتا۔”

میڈیا رپورٹس کے مطابق جب ریہا ایّر نے تنہا پولیس وین کے سامنے کھڑے ہو کر اسے روکنے کی کوشش کی تو اس کی ہمت دیکھ کر دیگر طلبہ اور شہری بھی موقع پر جمع ہوگئے، جس کے بعد پولیس وین کو آگے بڑھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق طلبہ نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے سے صاف انکار کر دیا ہے، جبکہ حکومت نے اس مطالبے پر جواب دینے کے لیے آج دوپہر تک مہلت طلب کی ہے۔

احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر وزیر تعلیم نے استعفیٰ نہ دیا تو احتجاج کو ملک گیر تحریک میں تبدیل کر دیا جائے گا اور مختلف ریاستوں میں مظاہروں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

ادھر بھارتی نوجوانوں نے بھی مودی حکومت اور حکومتی مؤقف کی حمایت کرنے والے بعض میڈیا اداروں کے پاکستان مخالف بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی ہی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ مختلف شہروں میں نوجوانوں نے طنزیہ شاعری اور احتجاجی نعروں کے ذریعے حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور حکومت کو عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

سی جے پی کے ترجمان کے مطابق حکومت نے 20 جولائی کے احتجاج کے بعد طلبہ کے خلاف درج مقدمات واپس لینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم دیگر مطالبات پر مذاکرات تاحال جاری ہیں۔ احتجاجی قیادت کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے بنیادی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

Related posts

کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنی عوامی تحریک اور جمہوری جدوجہد کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے مزید مطالبات بھی حکومت کے سامنے رکھ دیے

بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

امریکا کا 60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر نیا ٹیرف، پاکستان سمیت متعدد ممالک متاثر