کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنی عوامی تحریک اور جمہوری جدوجہد کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے مزید مطالبات بھی حکومت کے سامنے رکھ دیے

نئی دہلی: بھارت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد پیپر لیک معاملے پر تقریباً دو ماہ سے احتجاج کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے اسے اپنی عوامی تحریک اور جمہوری جدوجہد کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے مزید مطالبات بھی حکومت کے سامنے رکھ دیے۔

وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے کے فوراً بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ردعمل میں لکھا، “کاکروچز جیت گئے، جمہوریت جیت گئی”، جبکہ پارٹی کے کارکنوں اور طلبہ نے احتجاجی مقام پر خوشی کا اظہار کیا۔

پارٹی کے بانی صدر ابھیجیت دیپکے نے جنتر منتر پر احتجاجی طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں عوام کو اپنی آواز بلند کرنے سے کبھی نہیں ڈرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوان اپنے حقوق کے لیے متحد ہو جائیں تو حکومتیں بھی عوام کے سامنے جوابدہ ہونے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کے باوجود احتجاج ختم نہیں ہوگا کیونکہ ابھی کئی مطالبات باقی ہیں۔ ان کے مطابق جن طلبہ نے پیپر لیک کے باعث مبینہ طور پر خودکشی کی، ان کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے، احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کی تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہو اور تمام گرفتار طلبہ کے خلاف درج مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔

ابھیجیت دیپکے نے پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی آواز کو دبانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور اگر ایک وفاقی وزیر استعفیٰ دینے پر مجبور ہو سکتا ہے تو دیگر ذمہ داران کا بھی احتساب ممکن ہے۔

دوسری جانب معروف بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے وزیر تعلیم کے استعفے کو جمہوریت، امن، صبر اور استقامت کی فتح قرار دیا۔ انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی، نوجوان نسل اور ملک بھر سے احتجاج میں شریک شہریوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ خوف کے بجائے آئینی اور پرامن انداز میں آواز بلند کرنا جمہوری معاشروں کی اصل طاقت ہے۔

سونم وانگچک نے کہا کہ یہ پیش رفت احتساب سے اصلاحات کی جانب پہلا قدم ہے اور اب حکومت کو عوام کے دیگر جائز مطالبات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں نئی دہلی کے جنتر منتر پر تقریباً دو ماہ سے احتجاج جاری تھا۔ اس دوران سونم وانگچک نے بھی 26 روزہ بھوک ہڑتال کی، جبکہ 20 جولائی کو پارٹی کی جانب سے دی گئی کال پر ہزاروں نوجوان احتجاج میں شریک ہوئے۔

احتجاج کے دوران بھارتی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج، واٹر کینن اور دیگر ہجوم منتشر کرنے کے اقدامات کیے، جبکہ متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔ جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے، جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی تھی، تاہم مظاہرین نے وزیر تعلیم کے استعفے سمیت دیگر مطالبات پر اصرار برقرار رکھا۔ اپوزیشن جماعتوں اور مختلف سماجی شخصیات نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات اور احتجاج کے دوران ہونے والی کارروائیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

Related posts

بھارت میں طلبہ کا احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا، پولیس وین روکنے والی طالبہ ریہا ایّر کا بیان سامنے آ گیا

بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

امریکا کا 60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر نیا ٹیرف، پاکستان سمیت متعدد ممالک متاثر