چینی اشیا کی مبینہ غیر قانونی ترسیل، وائٹ ہاؤس اور بیجنگ آمنے سامنے

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے چین پر امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چینی مصنوعات کو مختلف ممالک کے راستے امریکا پہنچایا جا رہا ہے تاکہ ان پر عائد امریکی محصولات سے بچا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق چینی اشیا بھارت اور اسرائیل سمیت 40 سے زائد ممالک کے ذریعے امریکا منتقل کی جا رہی ہیں۔ امریکی دعوے کے مطابق اس طریقہ کار کے ذریعے چین نے تقریباً 300 ارب ڈالر تک کے ممکنہ ٹیرف سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس حوالے سے رپورٹ سوشل میڈیا پر شیئر کی۔

امریکی مؤقف کے مطابق بعض چینی مصنوعات براہ راست چین سے امریکا بھیجنے کے بجائے پہلے تیسرے ممالک منتقل کی جاتی ہیں اور وہاں سے امریکی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ اس عمل کا مقصد مصنوعات کے اصل ماخذ کو تبدیل یا چھپانا اور امریکی ٹیرف سے بچنا ہے۔

ذرائع کے مطابق جن ممالک کے ذریعے چینی اشیا کی امریکا مبینہ غیر قانونی ترسیل کا دعویٰ کیا گیا ہے، ان میں پاکستان شامل نہیں۔ تاہم امریکا کی جانب سے سامنے آنے والی فہرست میں 40 سے زائد ممالک کا ذکر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب چین نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے اپنی پیداوار کو مختلف ممالک میں منتقل کرنا عالمی سپلائی چین میں ہونے والی ایک معمول کی تبدیلی ہے۔ بیجنگ کے مطابق محض پیداوار یا سپلائی کے مراکز تبدیل ہونے کو ٹیرف سے بچنے کی کوشش قرار دینا درست نہیں۔

چینی حکام اور ماہرین نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا متعلقہ کمپنیوں نے امریکی قوانین کے مطابق مصنوعات کا اصل مقامِ پیداوار درست طور پر ظاہر کیا یا نہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی کمپنی نے مقامِ آغاز سے متعلق معلومات غلط فراہم کی ہوں یا متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کی ہو تو اسے الگ معاملے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

واشنگٹن میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے بھی امریکی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی تیسرے ملک کے مفادات کو یکطرفہ اقدامات کے ذریعے نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

چینی ترجمان کے مطابق ٹیرف اور تجارتی جنگیں کسی بھی فریق کو حقیقی فاتح نہیں بناتیں۔ بیجنگ نے چینی مصنوعات کو محدود کرنے کے لیے قومی سلامتی کے جواز کو استعمال کرنے اور یکطرفہ محصولات عائد کرنے کی مخالفت کا اعادہ کیا۔

ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات جاری رکھے گئے تو بیجنگ اپنے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

امریکا اور چین کے درمیان ٹیرف اور تجارتی پالیسیوں پر اختلافات پہلے ہی عالمی تجارت اور سپلائی چین پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے تیسرے ممالک کے راستے چینی مصنوعات کی مبینہ ترسیل کو نئے تجارتی تنازع کے طور پر اٹھائے جانے سے امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کے مطابق اس معاملے کا اصل اثر ان کمپنیوں پر پڑ سکتا ہے جو چین کے علاوہ دیگر ممالک میں پیداوار یا اسمبلنگ کرکے امریکی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرتی ہیں۔ اگر امریکا اصلِ پیدائش کے قوانین کی نگرانی مزید سخت کرتا ہے تو عالمی سپلائی چین میں کام کرنے والی کمپنیوں کو اضافی جانچ، دستاویزات اور ممکنہ محصولات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یوں چینی مصنوعات کی مبینہ ’’تھرڈ کنٹری‘‘ ترسیل کا معاملہ محض امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تنازع تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ان ممالک اور کمپنیوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے جو عالمی مینوفیکچرنگ اور برآمدی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔

Related posts

ٹرمپ انتظامیہ کا نیٹو اتحادیوں کی پالیسیوں کا جائزہ، سوالنامہ ارسال

قطر میں 3 ایرانی پائلٹس کی گرفتاری کا ایرانی دعویٰ، ریڈکراس سے فوری تحقیقات کا مطالبہ

آبنائے ہرمز پر قبضے کا اعلان؟ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران پر مزید معاشی دباؤ کی دھمکی