ٹرمپ انتظامیہ کا نیٹو اتحادیوں کی پالیسیوں کا جائزہ، سوالنامہ ارسال

واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے نیٹو کے رکن ممالک کی امریکی پالیسیوں سے وفاداری اور واشنگٹن کے ساتھ عملی تعاون کا جائزہ لینے کے لیے اتحادی ممالک کو ایک تفصیلی سوالنامہ بھیج دیا ہے، جس میں فوجی اڈوں کے استعمال، دفاعی خریداری اور یورپی صنعتوں کو ترجیح دینے سے متعلق پالیسیوں پر سوالات کیے گئے ہیں۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھیجے گئے سوالنامے میں نیٹو اتحادیوں سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ آیا وہ امریکی افواج کو اپنے علاقوں میں موجود فوجی اڈے استعمال کرنے پر کسی قسم کی پابندی عائد کرتے ہیں یا نہیں۔

سوالنامے میں اتحادی ممالک کے دفاعی اخراجات اور امریکی دفاعی صنعت کے ساتھ ان کے تعلقات سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ نیٹو ممالک سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ وہ امریکی دفاعی ٹھیکیداروں اور کمپنیوں سے سامان یا خدمات کی خریداری پر کتنی رقم خرچ کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ نے بعض اتحادی ممالک سے امریکی دفاعی کمپنیوں سے کی جانے والی خریداری کے ثبوت اور رسیدیں فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس اقدام کو واشنگٹن کی جانب سے نیٹو ممالک کے دفاعی اخراجات اور امریکی دفاعی صنعت سے ان کے روابط کی زیادہ سخت نگرانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

’میڈ ان یورپ‘ پالیسی بھی زیرِ جائزہ

امریکی سوالنامے میں یورپی ممالک کی جانب سے مقامی صنعت کو ترجیح دینے والی ’میڈ ان یورپ‘ پالیسیوں سے متعلق بھی سوالات شامل ہیں۔

امریکی انتظامیہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ نیٹو اتحادی ممالک یورپی ساختہ دفاعی مصنوعات کو ترجیح دینے کی پالیسی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور کیا ایسی پالیسیوں سے امریکی دفاعی کمپنیوں کے لیے یورپی منڈی تک رسائی محدود ہوسکتی ہے۔

امریکی اتحادیوں نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے محض دفاعی تعاون کا جائزہ لینے کے بجائے امریکا کے ساتھ سیاسی اور نظریاتی ہم آہنگی کا امتحان قرار دیا ہے۔ بعض اتحادیوں کے مطابق واشنگٹن امریکی سکیورٹی اور دفاعی تعاون کے بدلے یورپی ممالک سے اپنی پالیسیوں کی حمایت بھی یقینی بنانا چاہتا ہے۔

یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کا جائزہ

یہ سوالنامہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا یورپ میں اپنی عسکری موجودگی کا جامع شش ماہی جائزہ لے رہا ہے، جو دسمبر میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

اس جائزے کے دوران امریکی حکام یورپ میں تعینات امریکی فوجیوں، فوجی تنصیبات، اڈوں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کی مستقبل کی ضروریات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی انتظامیہ طویل عرصے سے نیٹو اتحادیوں سے دفاع پر زیادہ اخراجات کرنے اور اپنی سلامتی کی ذمہ داریوں میں زیادہ حصہ ڈالنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ بھی اس معاملے کو اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں خاص اہمیت دے رہی ہے۔

مارک رٹے کا جائزے کا خیرمقدم

دوسری جانب نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رٹے نے یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کے جائزے کو مثبت قدم قرار دیا ہے۔

مارک رٹے کے مطابق اس طرح کے جائزوں سے نیٹو ممالک کو ایک دوسرے کے مزید قریب آنے اور اتحاد کی مجموعی دفاعی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے جائزے باقاعدگی سے کیے جانے چاہئیں تاکہ اتحاد بدلتے ہوئے سکیورٹی حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی کو بہتر بنا سکے۔

امریکی اقدام نے ایک مرتبہ پھر واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان دفاعی اخراجات، امریکی فوجی موجودگی اور دفاعی تجارت کے معاملات کو نمایاں کردیا ہے۔ آنے والے مہینوں میں امریکی فوجی جائزے کے نتائج اور نیٹو ممالک کے جوابات سے یہ واضح ہوسکتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ یورپ میں امریکی دفاعی موجودگی اور اتحادیوں سے تعاون کے لیے کن نئی شرائط کو ترجیح دیتی ہے۔

Related posts

چینی اشیا کی مبینہ غیر قانونی ترسیل، وائٹ ہاؤس اور بیجنگ آمنے سامنے

قطر میں 3 ایرانی پائلٹس کی گرفتاری کا ایرانی دعویٰ، ریڈکراس سے فوری تحقیقات کا مطالبہ

آبنائے ہرمز پر قبضے کا اعلان؟ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران پر مزید معاشی دباؤ کی دھمکی