آزادکشمیر کے عوام نے دنگا فساد اور احتجاج کو ووٹ کی طاقت سے شکست دی: مریم نواز

مری: مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کے عوام نے انتخابات میں دنگا فساد، قتل و غارت، خون خرابے، احتجاج اور ہڑتالوں کی سیاست کو ووٹ کی طاقت سے شکست دے کر تعمیر و ترقی کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

مری میں مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ مشکل حالات میں آزادکشمیر کے عوام نے بہترین فیصلہ کیا اور مسلم لیگ ن کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ ان کے بقول عوام نے یہ ثابت کردیا کہ وہ انتشار نہیں بلکہ ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ بعض شرپسند عناصر پاکستان اور آزادکشمیر کے عوام کو ایک دوسرے سے لڑانا چاہتے تھے، تاہم انتخابات کے نتائج ان عناصر کے لیے شکست فاش ہیں۔ آزادکشمیر کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ انہیں کیا چاہیے اور وہ وفاق اور پنجاب میں ہونے والے ترقیاتی کاموں سے بھی آگاہ ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی کامیابی منزل نہیں بلکہ اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ حکومت قائم ہوتے ہی پہلے دن سے عوام کی خدمت کا آغاز کرنا ہوگا اور پروٹوکول، دعوتوں اور دیگر سرگرمیوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے آزادکشمیر کے لیے فوری عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے عوام نے تعمیر و ترقی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے نئی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اترے اور اپنے وعدوں کو عملی شکل دے۔

مریم نواز نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو جدید پاکستان کا بانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے خلاف جتنی سازشیں کی گئی ہیں شاید ہی کسی دوسری جماعت کے خلاف اتنی سازشیں ہوئی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قائدین کو مشکل مراحل سے گزرنا پڑا، لیکن مسلم لیگ ن نے ہر مشکل کے بعد اپنی سیاسی قوت دوبارہ حاصل کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے 2021 کے آزادکشمیر انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس وقت وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی اور مسلم لیگ ن کو 17 جبکہ پی ٹی آئی کو 3 نشستیں حاصل ہوئی تھیں، تاہم ان کے بقول نتائج کو تبدیل کیا گیا۔ مریم نواز نے کہا کہ اب مسلم لیگ ن نے اپنی اکثریت واپس حاصل کرلی ہے اور ن لیگ کو کمزور یا ختم ہونے والی جماعت قرار دینے والوں کو عوام نے انتخابات میں جواب دے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی ایک سیاسی جماعت کا مستقبل روشن ہے تو وہ مسلم لیگ ن ہے۔

پیپلز پارٹی پر دھاندلی کے الزامات کا جواب

مریم نواز نے آزادکشمیر انتخابات کے نتائج پر پیپلز پارٹی کی جانب سے مبینہ دھاندلی کے الزامات پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی تو اس نے دھاندلی کی بات نہیں کی، لیکن آزادکشمیر میں شکست کے بعد دھاندلی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اکثریتی جماعت نہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دی تھی، لیکن آزادکشمیر میں شکست کے بعد دھاندلی کے الزامات عائد کرنا افسوسناک ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ دھاندلی کا الزام لگانے سے پہلے تھوڑی منطق کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ آزادکشمیر میں صدر، وزیراعظم، پولیس، انتظامیہ اور سرکاری عملہ اسی نظام کا حصہ تھے جس پر متعلقہ سیاسی قوتوں کا اثر و رسوخ تھا۔

پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر بھی سوالات

وزیراعلیٰ پنجاب نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران شاید جوشِ تقریر میں یہ بات بھلا دی گئی کہ آزادکشمیر میں حکومت اور انتظامیہ انہی کے پاس تھی۔

مریم نواز نے کہا کہ جن سیاسی جماعتوں کے پاس آزادکشمیر کے عوام کو دینے کے لیے کوئی واضح منصوبہ نہیں تھا، عوام نے انہیں مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر کا وعدہ وہ لوگ نہیں کرسکتے جن کے زیرانتظام علاقوں میں برسوں سے سڑکوں کی حالت خراب ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بسوں کا وعدہ بھی وہ لوگ نہیں کرسکتے جنہوں نے اپنے لوگوں کو مناسب سفری سہولیات فراہم نہیں کیں، جبکہ صفائی کے نظام کی بات بھی ایسی جماعتیں نہیں کرسکتیں جن کے زیرانتظام علاقوں میں کچرے کے ڈھیر موجود ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ آزادکشمیر کے عوام نے تقاریر کے بجائے منشور اور کارکردگی کو دیکھا اور اسی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنایا ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کو ہدایت کی کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد عوامی توقعات کو نظرانداز نہ کیا جائے بلکہ حکومت کے قیام کے فوراً بعد ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی جائے۔

مریم نواز کے خطاب میں ایک طرف مسلم لیگ ن کی انتخابی کامیابی کو عوامی اعتماد کا نتیجہ قرار دیا گیا، جبکہ دوسری جانب سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے ان کی کارکردگی اور دھاندلی کے الزامات کو بھی ہدف بنایا گیا۔

Related posts

سیاستدان اپنی چوہدراہٹ کے بجائے عوام کے مسائل سوچیں، نئے صوبوں کی اونرشپ لیں: عبدالعلیم خان

آزاد کشمیر کا ماحول سب کیلئے باعث پریشانی ہے، پچھلی حکومتوں نے فرض ادا نہیں کیا: نواز شریف

ستمبر لانگ مارچ کی قیادت خود کروں گا، 20 لاکھ افراد اسلام آباد لائیں گے: سہیل آفریدی