مجھے محسوس ہورہا تھا میں مرنے والی ہوں، کینسر انتہائی خوفناک احساس تھا: منیشا کوئرالا

ممبئی: معروف بھارتی اداکارہ منیشا کوئرالا نے کینسر کے خلاف اپنی جنگ کی تلخ یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیماری کی تشخیص کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ مرنے والی ہیں، جبکہ اسپتال میں گزاری گئی ایک رات ان کی زندگی کی سب سے طویل اور تنہائی بھری رات تھی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق منیشا کوئرالا میں 2012 میں اسٹیج فور اوورین کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ اداکارہ نے بیماری کا علاج امریکا میں کروایا، جہاں ان کی سرجری کے ساتھ کیموتھراپی بھی ہوئی۔ علاج کا آخری کیموتھراپی سیشن اپریل 2013 میں ہوا، جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں کینسر فری قرار دے دیا تھا۔

کئی برس گزرنے کے بعد ایک حالیہ انٹرویو میں منیشا کوئرالا نے اپنی زندگی کے اس مشکل ترین دور کو یاد کیا اور بتایا کہ کینسر کی تشخیص نے ان کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کو کس طرح متاثر کیا۔

اداکارہ کے مطابق جب وہ اسپتال میں تھیں اور انہیں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ انہیں کینسر ہے تو وہ رات ان کی زندگی کی سب سے زیادہ تنہائی بھری اور طویل رات تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت انہیں مسلسل یہ احساس ستاتا تھا کہ شاید ان کی زندگی ختم ہونے والی ہے۔

منیشا نے کہا کہ کینسر کے دوران انہوں نے کئی مواقع پر شدید تنہائی محسوس کی۔ ان کے مطابق اس تجربے نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ ایک سنگین بیماری میں مبتلا مریض کس قدر بے بسی اور تنہائی محسوس کرسکتا ہے۔

اداکارہ نے اپنے تجربے کو انتہائی ہولناک اور خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیماری کے دوران گزرنے والی کیفیت کو وہی شخص مکمل طور پر سمجھ سکتا ہے جو خود اس مرحلے سے گزرا ہو۔

منیشا کوئرالا نے اپنی ماضی کی زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے یہ بھی اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں بہت زیادہ کام کیا اور اس دوران اپنی صحت کو وہ اہمیت نہیں دی جس کی ضرورت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں زندگی میں دوبارہ موقع ملے تو وہ اپنی صحت کو ترجیح دیں گی۔ اداکارہ کے مطابق بیماری کے تجربے نے انہیں یہ سبق دیا کہ کامیابی، کام اور دیگر مصروفیات اپنی جگہ لیکن صحت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

منیشا کوئرالا نے 2012 میں کینسر کی تشخیص کے بعد طویل علاج اور کیموتھراپی کے مرحلے کا سامنا کیا اور 2013 میں علاج مکمل ہونے کے بعد کینسر فری قرار دی گئیں۔ ان کی یہ ذاتی جدوجہد طویل عرصے سے ان کی زندگی کی اہم ترین کہانیوں میں شمار ہوتی ہے۔

حالیہ گفتگو میں بیماری کے دوران محسوس ہونے والی تنہائی، خوف اور موت کے خدشے کا ذکر کرتے ہوئے اداکارہ نے نہ صرف اپنے مشکل ماضی کو یاد کیا بلکہ صحت کو زندگی میں اولین ترجیح دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

Related posts

کرتارپور راہداری گئے تو پاکستان میں بہت پیار ملا، فوجیوں نے بھی محبت کا اظہار کیا: سنی دیول

کنگنا رناوت کا بھارت کی جین زی کو ’گٹر جنریشن‘ قرار دینے والے اپنے سابقہ بیان سے یوٹرن

کنگنا رناوت نے نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بعد بھارتی جین زی (Gen Z) نسل پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں “جنریشن گٹر” قرار دے