پاک فوج کا موقف: دہشت گردی کے خلاف کارروائی ریاستی ذمہ داری ہے، سویلین پر حملے نہیں کیے جاتے

اسلام آباد: پاک فوج کے ترجمان، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بریفنگ میں کہا کہ پاکستان جب بھی کارروائی کرتا ہے تو اسے اعلانیہ کرتا ہے اور کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریاست کے طور پر ردعمل دیتا ہے اور خون اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی دہشت گرد کو اچھا یا برا نہیں سمجھتا اور دہشت گردوں میں کوئی تفریق نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کارروائیاں افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔

انہوں نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست کی طرح فیصلے کریں نہ کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کی طرح۔ ساتھ ہی انہوں نے دہشت گردی کے متعدد واقعات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے استعمال کی نشاندہی کرتے ہوئے اس پر فوری پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔

ترجمان پاک فوج نے یہ بھی کہا کہ فیض حمید کا ٹرائل قانونی معاملہ ہے اور اس پر قیاس آرائی نہیں کی جانی چاہیے۔ معاملے کے حتمی نتیجے پر فوری طور پر اعلان کیا جائے گا۔

Related posts

نوجوان سوشل میڈیا پروپیگنڈے کا مقابلہ حقائق اور مثبت کردار سے کریں: فیلڈ مارشل عاصم منیر

آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کا دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن

خاران میں سکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 7 دہشتگرد ہلاک