راولپنڈی: خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں دہشتگردوں نے پولیس چیک پوسٹ پر بڑا حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 15 سکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی میں 12 دہشتگرد مارے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشتگردوں نے رات کی تاریکی میں پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا، تاہم وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے غیر معمولی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا اور ان کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شدید مزاحمت اور دباؤ کا سامنا ہونے پر حملہ آوروں نے بارود سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے سے چیک پوسٹ کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور متعدد اہلکار ملبے تلے دب گئے۔
بیان کے مطابق اس حملے میں وطن کے 15 بہادر سپوت شہید ہوئے، جن میں 12 فوجی جوان، 2 پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری اہلکار شامل ہیں۔ شہداء نے مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے عظیم قربانی دی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے حملے کے فوراً بعد بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے فرار ہونے والے 12 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ علاقے میں مزید دہشتگردوں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ ہر قسم کے خطرے کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ بیان میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ہر قیمت پر ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق وطن کے بہادر شہداء کی عظیم قربانیاں قومی سلامتی کے تحفظ اور دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں، اور سکیورٹی فورسز آخری دہشتگرد کے خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔