28 سال بعد سابق ایم ڈی کے ای ایس سی شاہد حامد قتل کیس کا فیصلہ جاری، 2 ملزمان بری

کراچی: انسداددہشتگردی عدالت نے 28 سال بعد سابق ایم ڈی کے ای ایس سی کے قتل کیس کا فیصلہ سنادیا۔

چوائس نیوز کے مطابق کراچی کی انسداد ہشتگردی عدالت نے 28 سال بعد  سابق ایم ڈی کے  ای ایس سی شاہد  حامد قتل کیس کا فیصلہ سنایا جس میں عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر منہاج قاضی اور محبوب غفران کو بری کردیا۔

پراسیکیوشن کے مطابق مقدمے میں ملوث مرکزی ملزم صولت مرزا کوعدالت نے 1999میں سزائے موت سنائی تھی جب کہ  2016 میں پولیس نے منہاج قاضی اور محبوب غفران کو گرفتار کیا۔

پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ صولت مرزا، منہاج قاضی اور دیگر کے خلاف ڈیفنس پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔

واضح رہے کہ  مینیجنگ ڈائریکٹر کے ای ایس سی شاہد حامد کو قتل کرنے والے صولت مرزا کو  16 سال بعد مئی 2015 میں پھانسی دی گئی۔

شاہد حامد کو 1997 میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ان کی رہائش گاہ کے قریب ان کے ایک محافظ اور ڈرائیور سمیت قتل کردیا گیا تھا، 1999 میں بنکاک سے کراچی آنے والے صولت مرزا کو اس واردات میں ملوث ہونے کے الزام میں ائیر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

Related posts

سینیٹ قائمہ کمیٹی اجلاس میں عابد شیر علی اور ایمل ولی خان کے درمیان تلخ کلامی

محسن نقوی کے ’’عوام کی مرضی‘‘ کے بیان نے نئے صوبوں کے قیام پر آئینی سوالات اٹھا دیے

میر رضا قتل کیس میں اہم فارنزک پیش رفت، جائے وقوعہ سے ملنے والا خول سکیورٹی گارڈ کے پستول سے میچ نہ ہوسکا