آج سے 30 اگست تک ملک کےبیشتر علاقوں میں شدید بارشوں کا امکان

اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 23 تا 30 اگست ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور  ممکنہ سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کردیا۔

این ڈی ایم اے کے مطابق 23 تا 30 اگست ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے، 23 سے 30 اگست تک اسلام آباد، کشمیر، خیبرپختونخوا اورپنجاب میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق 23 تا 30 اگست تک راولپنڈی، اٹک، جہلم، میانوالی، خوشاب، سرگودھا، سیالکوٹ،گجرات اور حافظ آباد میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔

چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ،  بٹگرام، ایبٹ آباد، مالاکنڈ، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت میں بھی 23 سے 30 اگست تک شدید بارشیں متوقع ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق 23 تا 30 اگست تک گلگت، اسکردو، ہنزہ، غذر، دیامر، استور، گانچھے اور شگرمیں شدید بارشوں کا امکان ہے۔

این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے رابطہ سڑکیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق کراچی میں 27 سے 30 اگست تک بارشوں کا امکان ہے جبکہ ٹھٹہ، سجاول، بدین اورتھرپارکرمیں بھی 27  سے 30 اگست تک بارشوں کا امکان ہے۔

حیدرآباد، جامشورو، نوابشاہ، دادو، خیرپور، سکھر، گھوٹکی اور لاڑکانہ میں بھی 27 سے 30 اگست تک بارشیں متوقع ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق 27 سے 30 اگست تک جیکب آباد، شکارپور، کشمور اور شہید بینظیرآباد میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔

27 سے 30 اگست تک لسبیلہ، خضدار، آواران، قلات، گوادر، تربت، کیچ اورپنجگور میں موسلا دھاربارش ہوسکتی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق 27  سے 30 اگست تک کوئٹہ، زیارت، ژوب، لورالائی میں بارشوں کا امکان ہے جبکہ  بارکھان، موسیٰ خیل، ڈیرہ بگٹی، کوہلو میں وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہیں۔

این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں تونسہ، گڈو اورکالاباغ کے مقام پرپانی کا بہاؤ 5 لاکھ کیوسک تک متوقع ہے جبکہ دریائے راوی اورچناب کے ملحقہ علاقوں میں بھی پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

Related posts

رانا ثنااللہ کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے سسٹم سے متعلق حالیہ بیان پر وضاحت

پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان سے افغانستان اسلحہ اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے دعوے کو سختی سے مسترد کردیا

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ملکی تاریخ اور خطے کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیشرفت قرار