پاکستان، سعودی عرب کا تاریخی دفاعی معاہدہ: مودی کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اسٹریٹیجک دفاعی معاہدہ ہونے کے بعد بھارتی وزیراعظم مودی تنقید کی زد میں آگئے۔

سوشل میڈیا پر مودی کی خارجہ پالیسی کی ناکامی پر آوازیں اٹھنے لگیں، بھارتی کالم نگار ڈاکٹر براہما چیلانی ‘Brahma Chellaney’ نے کہا کہ نریندر مودی نے گزشتہ چند سالوں  میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ مودی نےتعلقات مضبوط بنانے کے حوالے سے  سعودی عرب کے کئی دورے کیے لیکن سعودی ولی عہد نے بھارتی وزیراعظم کے جنم دن پر  مودی کو  غیرمتوقع سرپرائز دیا اور پاکستان کے ساتھ باہمی دفاع کا معاہدہ کر لیا اور   اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ، دونوں پر حملہ تصور ہو گا۔

یہ معاہدہ بھارت کے لیے سفارتی سطح پر ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر  ایسے وقت میں جب  بھارت خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دارالحکومت ریاض میں باہمی دفاعی معاہدہ ہوگیا ہے۔

معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ 

Related posts

رانا ثنااللہ کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے سسٹم سے متعلق حالیہ بیان پر وضاحت

پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان سے افغانستان اسلحہ اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے دعوے کو سختی سے مسترد کردیا

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ملکی تاریخ اور خطے کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیشرفت قرار