پنجاب اسمبلی میں صوبائی ملازمین سوشل سکیورٹی ترمیمی بل 2025 پیش

لاہور: پنجاب اسمبلی میں صوبائی ملازمین سوشل سکیورٹی ترمیمی بل 2025 پیش کردیا گیا۔ بل گزشتہ اجلاس میں ن لیگ کے رکن اسمبلی امجد علی جاوید کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔

بل کی اہم تجاویز
• پنجاب ملازمین کے سماجی تحفظ آرڈیننس 1965 میں مزید ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔
• ٹیکس نادہندہ افراد کو آجروں کے نمائندہ کے طور پر نامزد کرنے پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
• بل کے متن کے مطابق محفوظ ملازمین کا نمائندہ صرف رجسٹرڈ ورکرز یونین کا کارکن ہوگا۔
• نمائندہ کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ کم از کم پانچ سال تک ادارے کا مستقل حصہ دار رہا ہو۔
• ٹیکس نادہندہ اور غیر شراکت دار افراد کو محفوظ ملازمین کا نمائندہ نامزد نہیں کیا جاسکے گا۔

اسمبلی اراکین کی شمولیت
• ترمیم کے تحت پنجاب اسمبلی کے دو اراکین بھی سوشل سکیورٹی بورڈ میں شامل ہوں گے۔
• دونوں اراکین اسمبلی کو سپیکر پنجاب اسمبلی نامزد کریں گے۔
• بل کے متن کے مطابق اراکین اسمبلی کی شمولیت کا مقصد قانونی ضابطوں کو مؤثر بنانا اور ملازمین کے تحفظ کے لیے فریم ورک کو بہتر بنانا ہے۔

اگلے مراحل
• بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے۔
• کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دو ماہ میں رپورٹ پیش کرے۔
• کمیٹی کی منظوری کے بعد بل کو اسمبلی میں منظور کروایا جائے گا۔
• ترامیم کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔

Related posts

پنجاب میں زرعی شعبے کا بڑا انقلاب، 10 لاکھ کسان کارڈز کا ہدف آخری مرحلے میں، 360 ارب روپے کے بلاسود قرضے جاری

کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے اپنی 138 سالہ تاریخ میں کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 5 کروڑ 46 لاکھ 85 ہزار ٹن کارگو ہینڈل کیا

ایران سے سستا تیل اور گیس درآمد کرنے پر غور، عوام کو مزید ریلیف دینے کی کوشش جاری: وفاقی وزیر پیٹرولیم