آزاد کشمیر کا ماحول سب کیلئے باعث پریشانی ہے، پچھلی حکومتوں نے فرض ادا نہیں کیا: نواز شریف

مری: مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں پہلی مرتبہ جو سیاسی اور سماجی ماحول بنا ہے وہ سب کے لیے باعثِ پریشانی ہے، ماضی کی حکومتوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، تاہم مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں عوامی توقعات پر پورا اترنے اور خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی۔

مری میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا ہے، اب اس اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر آزاد کشمیر میں حکومت نے عوام کو ڈیلیور نہ کیا تو لوگ ناراض ہوں گے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ماضی میں آزاد کشمیر کی حکومت عوامی امنگوں پر پوری نہیں اتر سکی، اب عوام کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ آزاد کشمیر کے عوام پنجاب کی طرف دیکھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جس طرح پنجاب میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں، اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی سڑکیں، اسپتال، تعلیمی ادارے اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز فراہم کیے جانے چاہئیں، وہ خود بھی کوشش کریں گے کہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے ہوں۔ نواز شریف نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت عوامی خدمت، ترقی اور فلاحی منصوبوں کو ترجیح دے گی۔

آزاد کشمیر میں سڑکیں، اسپتال اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں

نواز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سڑکوں اور اسپتالوں کی تعمیر ناگزیر ہے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور سیاحت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سڑکیں اور اسپتال دیکھ کر آزاد کشمیر کے لوگوں کا بھی دل کرتا ہے کہ ان کے علاقے میں بھی ایسی سہولیات موجود ہوں۔ آزاد کشمیر کے طلبہ کو لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس دی جانی چاہئیں جبکہ کسانوں کو بھی کسان کارڈ کی سہولت فراہم کی جائے۔

نواز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں ہنگامی صورتحال اور دور دراز علاقوں تک رسائی کے لیے ہیلی کاپٹر کی سہولت ضروری ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر حکومت کو ہیلی کاپٹر فراہم کیا جائے تاکہ مشکل علاقوں میں امدادی اور سرکاری سرگرمیوں میں آسانی ہو۔

پیپلزپارٹی کی طرف سے شکایت کا موقع ملنے پر افسوس ہوا: نواز شریف

مسلم لیگ ن کے قائد نے آزاد کشمیر انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو مبارکباد جبکہ کامیاب نہ ہونے والے امیدواروں کو بھی شاباش دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے مخالفین کی انتخابی مہم کا بھرپور مقابلہ کیا۔

نواز شریف نے کہا کہ کچھ شکایات ان تک پہنچی ہیں جن پر انہیں افسوس ہوا۔ آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور وہاں پیپلزپارٹی کا وزیراعظم تھا، اس لیے انہیں امید نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے شکایت کا کوئی موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ سیاسی مخالفین کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے، سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ آزاد کشمیر کا ماحول ہمیشہ اچھا رہا ہے، اگر اس ماحول میں اس طرح کے عناصر داخل ہوں تو یہ اچھی بات نہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ انہیں اپنے بعض ساتھیوں کی شکست کا بہت دکھ ہوا۔ پارٹی کو ان عوامل کا جائزہ لینا چاہیے جن کی وجہ سے اچھے امیدوار شکست سے دوچار ہوئے۔ صرف شکست پر افسوس کرنے کے بجائے اس کی وجوہات تلاش کرکے مستقبل کی حکمت عملی بہتر بنائی جانی چاہیے۔

آزاد کشمیر کے پہلے دو مرحلوں میں مسلم لیگ ن کو اکثریت حاصل ہوچکی: نواز شریف

مسلم لیگ ن کے صدر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے دو مرحلوں میں پارٹی کو اکثریت حاصل ہوچکی ہے، اس لیے کارکنوں کو حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے۔

انہوں نے مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام کی انتخابی سرگرمیوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے انتخابی مہم چلا رہے تھے جیسے یہ ان کا اپنا الیکشن ہو۔

نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور امیدواروں نے بھرپور محنت کی اور اب اصل امتحان حکومت بننے کے بعد عوامی توقعات پر پورا اترنے کا ہے۔

جب میں وزیراعظم تھا تو ڈالر 100 روپے کا تھا: نواز شریف

ملکی معیشت کے حوالے سے نواز شریف نے کہا کہ پاکستان آگے کی طرف بڑھ رہا ہے اور بہت جلد مسائل پر قابو پالیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے اپنے منشور پر 100 فیصد عمل کرنا ہے۔

سابق وزیراعظم نے ماضی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ وزیراعظم تھے تو ڈالر تقریباً 100 روپے کا تھا، اس کے بعد ڈالر کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ ان کے مطابق ایک حکومت نے بڑے بڑے نعرے لگائے لیکن ان میں سے کسی پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔

نواز شریف نے کہا کہ وہ تنقید میں نہیں جانا چاہتے، تاہم جس حکومت میں صرف نعرے لگائے گئے اس کے دور میں پاکستان کی جو صورتحال ہوئی، انہوں نے ملک کو اس طرح کی حالت میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

شہباز شریف حکومت حالات بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے

نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ملک کے معاملات کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب شہباز شریف نے حکومت سنبھالی تو حالات انتہائی خراب تھے، تاہم اب ملک کے حالات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے، معیشت کو مضبوط بنایا جائے اور ملک کو اقتصادی طور پر خودمختار بنایا جائے۔

نواز شریف نے کہا کہ حکومت کی ایک اہم ترجیح یہ بھی ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار سے نجات دلائی جائے اور ملک کو معاشی طور پر اس مقام تک پہنچایا جائے جہاں اسے بار بار آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔

انہوں نے مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی پر زور دیا کہ وہ عوامی اعتماد کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھے اور اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت کرے۔

Related posts

سیاستدان اپنی چوہدراہٹ کے بجائے عوام کے مسائل سوچیں، نئے صوبوں کی اونرشپ لیں: عبدالعلیم خان

ستمبر لانگ مارچ کی قیادت خود کروں گا، 20 لاکھ افراد اسلام آباد لائیں گے: سہیل آفریدی

ستمبر لانگ مارچ کی قیادت خود کروں گا، 20 لاکھ افراد اسلام آباد لائیں گے: سہیل آفریدی