ستمبر لانگ مارچ کی قیادت خود کروں گا، 20 لاکھ افراد اسلام آباد لائیں گے: سہیل آفریدی

نوشہرہ: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی خود قیادت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارچ میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو اسلام آباد لایا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور پارٹی کے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔

نوشہرہ میں شجرکاری مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی اولین ترجیح عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی ہے۔ حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 235 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ 27 ستمبر کے لانگ مارچ تک جاری رہنے والی میگا شجرکاری مہم کے دوران صوبے میں 14 لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت گورننس کے شعبے میں بہتری لانے کے ساتھ سیاسی جدوجہد بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے آئینی اور سیاسی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ 13 اگست کی رات ایک کال پر پورا پاکستان ڈی چوک بن گیا، جس سے عوامی ردعمل اور سیاسی کارکنوں کے جذبے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ پہلے سے زیادہ بڑے پیمانے پر ہوگا اور وہ خود اس کی قیادت کریں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ میں 20 لاکھ سے زائد افراد اسلام آباد پہنچیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نوجوان موجودہ سیاسی صورتحال سے مایوس ہیں اور بڑی تعداد میں احتجاج میں شریک ہونے کے لیے تیار ہیں۔

سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ کوئی طاقت یا دباؤ انہیں اپنے سیاسی وژن سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ ان کے بقول اقتدار یا حکومتی عہدہ ان کی جدوجہد کا مقصد نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کے سیاسی وژن کے مطابق جدوجہد جاری رکھنا ترجیح ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سیاسی مزاحمت کے ساتھ خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے میں بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

دوسری جانب 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تاریخ کے اعلان کے بعد تحریک انصاف کے اندر بھی اس معاملے پر اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ بعض رہنماؤں کی جانب سے تاریخ اور حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، تاہم سہیل آفریدی نے اس فیصلے کو مشاورت سے کیا گیا قرار دیا ہے۔

لانگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر مقرر کیے جانے کے باعث سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ انتخابی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ اسی روز قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 168 بہاولپور میں ضمنی انتخاب بھی مقرر ہے، جس کے باعث سیاسی جماعتوں کی توجہ ایک ہی دن میں دو اہم سرگرمیوں پر مرکوز رہے گی۔

سہیل آفریدی اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ لانگ مارچ محض ایک روزہ احتجاج نہیں ہوگا اور اسلام آباد پہنچنے کے بعد واپسی کا فیصلہ حالات اور مطالبات کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔ پارٹی کے بعض رہنماؤں نے لانگ مارچ کا بنیادی مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی قرار دیا ہے، جبکہ سہیل آفریدی نے بعض مواقع پر عمران خان تک رسائی کو بھی اہم مقصد قرار دیا ہے۔

اب 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں، کارکنوں کو متحرک کرنے، دیگر صوبوں سے سیاسی کارکنوں کی شرکت اور وفاقی حکومت کے ممکنہ ردعمل پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ اگر پی ٹی آئی اپنے اعلان کے مطابق بڑے پیمانے پر کارکن اسلام آباد لانے میں کامیاب ہوتی ہے تو 27 ستمبر ملکی سیاست میں ایک اہم سیاسی دن بن سکتا ہے۔

Related posts

سیاستدان اپنی چوہدراہٹ کے بجائے عوام کے مسائل سوچیں، نئے صوبوں کی اونرشپ لیں: عبدالعلیم خان

آزاد کشمیر کا ماحول سب کیلئے باعث پریشانی ہے، پچھلی حکومتوں نے فرض ادا نہیں کیا: نواز شریف

ستمبر لانگ مارچ کی قیادت خود کروں گا، 20 لاکھ افراد اسلام آباد لائیں گے: سہیل آفریدی