حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کے لیے اتحادیوں سے رابطے تیز کردیئے

اسلام آباد: حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے اتحادی جماعتوں سے رابطوں میں تیزی لاتے ہوئے مشاورت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف سے:
• ایم کیو ایم پاکستان
• مسلم لیگ (ق)
• استحکام پاکستان پارٹی

کے وفود نے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں آئینی ترمیم کے خدوخال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایم کیو ایم کو بلدیاتی ترمیم شامل کرنے کی یقین دہانی

ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے وفد کو 27 ویں آئینی ترمیم پر اعتماد میں لیا اور ایم کیو ایم کے بلدیاتی آئینی مسودے کو ترمیم کا حصہ بنانے کی یقین دہانی کرائی۔

ترجمان نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) ایم کیو ایم کے بلدیاتی ترمیمی مسودے کی حمایت کرے گی۔

استحکام پاکستان پارٹی اور (ق) لیگ سے بھی مشاورت

علیم خان کی قیادت میں استحکام پاکستان پارٹی کے وفد نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کر کے ترمیم سے متعلق گفتگو کی۔

اسی طرح مسلم لیگ (ق) کا وفد، چوہدری سالک حسین کی سربراہی میں وزیراعظم سے ملا۔

رواں ماہ منظوری کا امکان

ذرائع کے مطابق حکومت 27 ویں آئینی ترمیم رواں ماہ ہی قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں سے منظور کرانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔

ترمیم میں:
• آرٹیکل 243 میں تبدیلی
• آئینی و عدالتی ڈھانچے سے متعلق اصلاحات
• اور بلدیاتی نظام سے متعلق نکات شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ترمیم کے لیے اتفاق رائے چاہتی ہے، تاہم نمبرز گیم بھی اس کے حق میں موجود ہے.

Related posts

سینیٹ قائمہ کمیٹی اجلاس میں عابد شیر علی اور ایمل ولی خان کے درمیان تلخ کلامی

محسن نقوی کے ’’عوام کی مرضی‘‘ کے بیان نے نئے صوبوں کے قیام پر آئینی سوالات اٹھا دیے

میر رضا قتل کیس میں اہم فارنزک پیش رفت، جائے وقوعہ سے ملنے والا خول سکیورٹی گارڈ کے پستول سے میچ نہ ہوسکا