ستائیسویں آئینی ترمیم پر مشاورت؛ ایم کیو ایم کا وفد مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

اسلام آباد: ستائیسویں آئینی ترمیم کے معاملے پر مشاورت کے لیے ایم کیو ایم کا اعلیٰ سطحی وفد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پہنچا، جہاں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔

ایم کیو ایم کے وفد میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار، خواجہ اظہار الحسن، ارشد وہرہ اور دیگر رہنما شامل تھے۔

آئینی مسودہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے کیا گیا
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ وفد نے خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں مولانا فضل الرحمان کو آئینی ترمیم کا مسودہ پیش کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا:

“ہم نے ایک نکاتی ایجنڈے پر حکومت سے اتحاد کیا تھا۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وسائل صوبوں تک تو پہنچے مگر عوام تک نہیں پہنچے۔ اختیارات اور وسائل کو مقامی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے۔”

انہوں نے کہا کہ یہ وہی مسودہ ہے جو ماضی میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے دوران بھی پیش کیا گیا تھا، تاہم اس وقت منظوری نہیں ہو سکی تھی۔
ان کے بقول وزیراعظم نے اس بار مسودے کی حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔

“یہ پاکستان کا مسودہ ہے”
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات ان کے دروازے تک پہنچانے کا واحد حل ایم کیو ایم کی مجوزہ آئینی ترمیم ہے، اور اب تمام سیاسی جماعتوں کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔

جے یو آئی (ف) کی جانب سے مسودے کا جائزہ لینے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

Related posts

راولا کوٹ میں مسلح حملہ آور مختلف عمارتوں پر مورچہ بند ہو کر سکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں

آزاد کشمیر کے انتخابات میں عوام نے ترقی، کارکردگی اور جدت کو ووٹ دیا,عظمی بخاری

پاکستان تحریک انصاف میں مجوزہ ’’عمران خان ریلیز فورس‘‘ کے قیام کا منصوبہ