آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا مشترکہ نوٹیفکیشن آئینی تقاضہ ہے، جلد جاری ہوگا — وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا مشترکہ نوٹیفکیشن آئینی عمل کا حصہ ہے، اور یہ معاملہ جلد ہی حل ہو جائے گا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ قانون پارلیمنٹ سے پاس ہو چکا ہے، جبکہ نوٹیفکیشن اس قانون کا تکنیکی تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترمیم کے تحت آرمی چیف کی مدتِ ملازمت پہلے ہی آئینی طریقہ کار کے مطابق ہے، اور اس کے تحت آرمی چیف کی مدت نومبر 2027 تک ہے۔

وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے بعد آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے لیے ایک ہی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ “آج کل خبریں نہ ہونے کی وجہ سے غیرضروری افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، نوٹیفکیشن رکنے کی کوئی بات نہیں۔”

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد وزارتِ دفاع اس معاملے پر باضابطہ پیشرفت کرے گی اور آئینی تقاضے مکمل کیے جائیں گے۔

انہوں نے زور دیا کہ معاملہ معمول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور افواہوں پر کان نہ دھرے جائیں.

Related posts

رانا ثنااللہ کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے سسٹم سے متعلق حالیہ بیان پر وضاحت

پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان سے افغانستان اسلحہ اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے دعوے کو سختی سے مسترد کردیا

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ملکی تاریخ اور خطے کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیشرفت قرار