پشاور: خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے بعض ارکانِ صوبائی اسمبلی کی جانب سے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور انتظامی معاملات پر تحفظات سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق 20 سے زائد ارکان اسمبلی مختلف حکومتی امور پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں اور آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت کے لیے ایک اجلاس بلانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ناراض ارکان کا مؤقف ہے کہ صوبے میں گورننس اور امن و امان کی صورتحال توقعات کے مطابق بہتر نہیں ہو سکی۔ ان ارکان کا خیال ہے کہ بعض اہم انتظامی معاملات میں صوبائی حکومت کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے اور بیوروکریسی پر حکومتی پالیسیوں کے مؤثر نفاذ کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض ارکان نے شکایت کی ہے کہ انہوں نے مختلف مواقع پر اپنے تحفظات وزیراعلیٰ کے سامنے رکھے، تاہم ان کے بقول ان مسائل کے حل کے لیے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ارکان کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے طریقہ کار پر بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ وسائل کی تقسیم میں شفافیت اور مساوات کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اسی طرح صوبائی کابینہ میں ممکنہ توسیع کے معاملے پر بھی کچھ ارکان تحفظات رکھتے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کئی ارکان خود کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور محسوس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پارٹی قیادت ان کے مؤقف کو سنجیدگی سے سنے۔
ذرائع کے مطابق ان تحفظات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کے لیے ناراض ارکان کا ایک اجلاس جلد طلب کیے جانے کا امکان ہے، جس میں مختلف تجاویز اور مطالبات پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا کہنا ہے کہ ارکان اسمبلی کی گروپ بندی یا کسی اندرونی تقسیم سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے تمام صوبائی ارکان متحد ہیں اور وزیراعلیٰ کی قیادت پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کے اندر اختلافات کی خبریں سیاسی مخالفین کی خواہشات کا نتیجہ ہیں اور ایسے دعوے زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کو پارٹی قیادت کا بھرپور اعتماد حاصل ہے اور صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے یکسوئی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کے اندر اتحاد برقرار ہے اور کسی بھی قسم کی گروپ بندی کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔