اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کی تقریب جینیوا میں منعقد ہوگی جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے اور دنیا میں کشیدگی کے خاتمے کے بعد امن کی نئی فضا قائم ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران نے مستقل بنیادوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر اتفاق کر لیا ہے، جو عالمی امن کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک نے انتہائی نازک اور مشکل حالات میں تحمل، بردباری اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں مذاکرات کامیاب ہوئے اور امن معاہدے کی راہ ہموار ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے کی باضابطہ تقریب جینیوا میں منعقد ہوگی اور پاکستان اس اہم سفارتی تقریب کی میزبانی کرے گا۔
وزیراعظم نے اس پیش رفت پر پاکستانی عوام اور عالمی برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف دو ممالک کے درمیان سمجھوتہ نہیں بلکہ امن، مکالمے اور سفارت کاری کی فتح ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے نے ثابت کر دیا ہے کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور افہام و تفہیم میں پوشیدہ ہے۔
انہوں نے اپنی جماعت کی قیادت، خصوصاً سابق وزیراعظم نواز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی ہر اہم موقع پر حاصل رہی۔ اس کے علاوہ صدر آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر سیاسی قائدین کو بھی اس کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔
وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کی اعلیٰ قیادت، ایرانی صدر اور مذاکراتی عمل میں شامل تمام وفود کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فریقین نے صبر، تدبر اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا جس کے باعث یہ معاہدہ ممکن ہوا۔
انہوں نے قطر کے امیر کے کردار کو خصوصی طور پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن عمل کو کامیاب بنانے میں قطر نے نہایت مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر کی تعاون پر مبنی قیادت کو بھی سراہا اور کہا کہ ان ممالک کی کوششوں نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کا سبب بنے۔