اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2025-26 کے حوالے سے حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات ختم نہ ہو سکے، جس کے باعث پیپلز پارٹی کے چیئرمین Bilawal Bhutto Zardari نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران اپنی تقریر احتجاجاً ملتوی کر دی۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی پارلیمانی قیادت نے بجٹ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد بعض اہم نکات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی کے سینئر رہنما Naveed Qamar نے بلاول بھٹو زرداری کو بجٹ سے متعلق ایک جامع بریفنگ دی۔
بریفنگ کے دوران نوید قمر نے پارٹی قیادت کو آگاہ کیا کہ حکومت کی جانب سے بجٹ کی تیاری کے دوران پیپلز پارٹی کے ساتھ جن تجاویز، مالی اہداف اور اعداد و شمار پر مشاورت کی گئی تھی، قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے حتمی بجٹ میں ان سے نمایاں فرق پایا گیا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ بعض اہم نکات اور تجاویز کو بجٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا، جس پر قیادت میں تشویش پائی جاتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے بجٹ میں سامنے آنے والے ان اختلافات کو سنجیدہ معاملہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پارٹی کی اعلیٰ سطحی قیادت پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم جلد حکومتی نمائندوں سے رابطہ کرے گی اور بجٹ سے متعلق تحفظات سے آگاہ کرے گی۔
سیاسی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اس بات کی وضاحت چاہتی ہے کہ مشاورتی عمل کے دوران طے کیے گئے نکات اور قومی اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ کے درمیان فرق کیوں موجود ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اتحادی جماعت ہونے کے باوجود ان کی تجاویز کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔
ان ہی تحفظات کے پیش نظر بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر اپنی متوقع تقریر مؤخر کر دی، جسے سیاسی حلقوں میں حکومت کے لیے ایک واضح احتجاجی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان آئندہ چند روز میں ہونے والے رابطوں کو بجٹ کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔