پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی، وزیراعظم کی پیشکش کا خیرمقدم

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے سیاسی کشیدگی کے خاتمے اور پارلیمانی ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کیا اور جلد عملی پیش رفت کا مطالبہ کیا۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے دی گئی مذاکرات کی دعوت ایک مثبت پیش رفت ہے اور ان کی جماعت اسے خوش آئند سمجھتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب دونوں فریق بات چیت پر آمادہ ہیں تو پھر مذاکرات کے آغاز میں تاخیر کی کیا وجہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی تک رسائی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ اہم سیاسی معاملات پر مشاورت اور رہنمائی حاصل کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بامعنی مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ امور کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے ایوان کے ماحول پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اجلاس کا آغاز حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خوشگوار انداز میں نہیں ہوا۔ ان کے مطابق سیاسی درجہ حرارت میں کمی اور جمہوری روایات کے فروغ کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو برداشت، تحمل اور مکالمے کا راستہ اپنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں مضبوط اور مؤثر ادارہ بنانا ہے تو حکومت اور اپوزیشن کو مشترکہ اصولوں پر اتفاق کرنا ہوگا۔ ان کے بقول ایک ایسی یادداشت یا ضابطۂ اخلاق تشکیل دیا جانا چاہیے جس پر تمام جماعتیں متفق ہوں تاکہ ایوان میں باہمی احترام اور تعاون کی فضا قائم ہو سکے۔

بیرسٹر گوہر نے قومی اسمبلی کے رکن اقبال آفریدی کی معطلی کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ انہیں اجلاس سے نکالنے کی دھمکی دی گئی اور بعد ازاں معطل کردیا گیا۔ انہوں نے اسپیکر اور حکومتی اراکین سے مطالبہ کیا کہ اقبال آفریدی کی معطلی واپس لے کر انہیں اجلاس کے باقی دورانیے کے لیے ایوان میں شرکت کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کے رویے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بعض معاملات پر اختلافات موجود ہیں، تاہم رانا تنویر کی جانب سے معذرت کی گئی جسے پی ٹی آئی نے قبول کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات میں مفاہمت اور برداشت کا رویہ ہی جمہوری نظام کو مضبوط بناتا ہے۔

سیاسی حلقوں کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 13 جون کو ایک مرتبہ پھر پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے قومی مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت میں کمی آسکتی ہے بلکہ پارلیمانی نظام کے استحکام اور قومی سطح پر اتفاق رائے کی فضا بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

Related posts

قومی اسمبلی سے ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل منظور، انفراسٹرکچر کی تنصیب میں رکاوٹ پر بھاری جرمانے کی تجویز

گلگت بلتستان میں حکومت سازی: پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی اور ایم ڈبلیو ایم سے رابطے تیز کر دیے

لاہور میں مسلم لیگ (ن) کا اعلیٰ سطحی اجلاس، آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور انتخابی حکمت عملی پر غور