گلگت بلتستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت سازی کے سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کی قیادت سے ابتدائی رابطے کر لیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کے لیے وفاقی سطح پر موجود اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سیاسی رہنماؤں کے درمیان مشاورت کا عمل جاری ہے، جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران حکومت سازی کے حوالے سے اہم فیصلوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات میں ایم ڈبلیو ایم کے ایک امیدوار اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ دو آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین اور ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشستوں کو شامل کرنے کے بعد اپوزیشن اتحاد کے ارکان کی تعداد پانچ ووٹوں تک پہنچ سکتی ہے، جو حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 میں سے 22 حلقوں کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی 10 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 5 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ چار آزاد کامیاب امیدوار بعد ازاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شامل ہو گئے، جس کے بعد آئی پی پی کی مجموعی نشستیں چار ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دو آزاد امیدوار اور ایم ڈبلیو ایم ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم Shehbaz Sharif نے گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جبکہ Pakistan Muslim League (N) نے حکومت کا حصہ بننے کے بجائے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس صورتحال کے بعد گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے سیاسی جوڑ توڑ اور مشاورت مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔