پاکستان کی ثالثی میں تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) پر بطور ثالث دستخط کر دیے، جبکہ اس اہم دستاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے بھی دستخط موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی خصوصی تقریب میں تینوں رہنماؤں نے خطے اور عالمی سطح پر امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اس مفاہمتی یادداشت کی توثیق کی۔ تقریب میں اعلیٰ حکومتی شخصیات، سفارتی نمائندوں اور بین الاقوامی مبصرین نے بھی شرکت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے تنازعات کے پرامن حل، مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت عالمی امن اور علاقائی استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی احترام اور تعاون کے ذریعے پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں امید ظاہر کی کہ یہ مفاہمتی یادداشت کشیدگی میں کمی، اعتماد سازی اور مستقبل میں مزید مثبت پیش رفت کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے پاکستان کی میزبانی اور ثالثی کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

مفاہمتی یادداشت میں باہمی احترام، سفارتی روابط کے فروغ، علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس معاہدے سے نہ صرف متعلقہ ممالک کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ خطے میں استحکام اور ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

سیاسی اور سفارتی حلقوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس کے مثبت اثرات مستقبل میں بین الاقوامی تعلقات اور علاقائی امن پر مرتب ہوں گی۔

Related posts

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے ہفتہ وار نظام متعارف کرانے کی تیاری، اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم

قومی اسمبلی سے ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل منظور، انفراسٹرکچر کی تنصیب میں رکاوٹ پر بھاری جرمانے کی تجویز

گلگت بلتستان میں حکومت سازی: پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی اور ایم ڈبلیو ایم سے رابطے تیز کر دیے